LIVE
Loading Breaking News...

ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگز کا حملہ اور مغویوں کی رہائی

News Image
ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگز کے حملے میں کم از کم 47 افراد ہلاک اور پچاس سے زائد کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ تازہ ترین پیش رفت میں گینگز نے تیرہ مغویوں کو بازیاب کر دیا ہے جبکہ علاقے میں خوف و ہراس کی فضا برقرار ہے۔
ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگز کی وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی ابتر ہو چکی ہے۔ حالیہ پرتشدد حملوں اور بڑے پیمانے پر اغوا کی کارروائیوں نے پورے ملک میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق کینسکوف میں ہونے والے ان حملوں کے دوران کم از کم 47 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ پچاس سے زائد افراد کو زبردستی اغوا کر لیا گیا۔ یہ پرتشدد واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ ملک کے بیشتر حصوں پر اب بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بجائے مسلح گینگز کا کنٹرول مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اس ہولناک واقعے کے بعد اگرچہ حکومتی اور بین الاقوامی سطح پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق گینگز کی طرف سے تیرہ مغویوں کو بازیاب کر کے رہا کر دیا گیا ہے۔ رہائی پانے والے ان افراد کی واپسی سے ان کے اہل خانہ نے سکھ کا سانس لیا ہے، لیکن اب بھی درجنوں افراد شدت پسندوں کی قید میں موجود ہیں۔ مقامی انتظامیہ اور سکیورٹی ادارے باقی ماندہ مغویوں کی بازیابی کے لیے مختلف ذرائع سے رابطے اور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم گینگز کا اثر و رسوخ اتنا زیادہ ہے کہ پولیس کے لیے فوری کارروائی کرنا انتہائی دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ہیٹی میں جاری یہ بحران طویل عرصے سے سیاسی عدم استحکام اور حکومتی رٹ کمزور ہونے کا شاخسانہ ہے۔ گینگز کے باہمی تنازعات اور علاقے پر غلبہ پانے کی جنگ نے عام شہریوں کی زندگی کو جہنم بنا ڈالا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہیٹی میں امنگوں کی بحالی اور انسانی المیے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ اگر حالات پر جلد قابو نہ پایا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور کینسکوف سمیت دیگر علاقوں سے نقل مکانی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔