LIVE
Loading Breaking News...

پی سی بی کی لارڈز ٹیسٹ میں انٹرویو نشر ہونے پر نشریاتی ادارے سے شکایت

News Image
پاکستان کرکٹ بورڈ نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کیے جانے پر نشریاتی ادارے سے باضابطہ شکایت کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے احتجاجاً میچ کے بائیکاٹ پر بھی غور کیا تھا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں جاری پہلے ٹیسٹ میچ کے دوران سابق وزیراعظم اور لیجنڈری کرکٹر عمران خان کے بیٹوں کا انٹرویو نشر کیے جانے پر برطانوی نشریاتی ادارے اسکائی اسپورٹس سے باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ انٹرویو میچ کے پہلے روز بارش کے باعث طویل ہونے والے لنچ کے وقفے کے دوران دکھایا گیا تھا، جس میں عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کی قید اور ان کی بگڑتی ہوئی صحت خصوصاً بینائی کے مسائل پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس انٹرویو کے نشر ہونے پر پی سی بی نے شدید احتجاج کیا اور یہاں تک غور کیا کہ لنچ کے بعد پاکستانی ٹیم کو میدان میں واپس جانے سے روک دیا جائے۔ پی سی بی کے حکام نے لنچ کے وقفے سے قبل ہی نشریاتی ادارے سے رابطہ کرکے متوقع نشر و اشاعت پر سخت اعتراض اٹھایا تھا اور وارننگ دی تھی کہ پاکستانی کھلاڑی دوپہر کے سیشن کے لیے میدان میں اترنے سے انکار کر سکتے ہیں۔ ابتدائی طور پر نشریاتی ادارے نے کچھ دیر کے لیے انٹرویو روک بھی دیا تھا، تاہم بعد میں اسے مکمل طور پر نشر کر دیا گیا۔ اس دوران انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کو بھی معاملے سے آگاہ کیا گیا تاکہ میچ بلا تعطل جاری رہ سکے۔ مقررہ وقت پر پاکستانی کھلاڑیوں نے میدان میں واپسی کی تیاری کی اور شیڈول کے مطابق کھیل کا دوبارہ آغاز ہوا۔ پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن پی ٹی وی نے اس انٹرویو کو اپنے چینل پر نشر نہیں کیا۔ دوسری جانب، آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز بھی سابق وزیراعظم عمران خان کے لیے مناسب طبی امداد فراہم کرنے کی مہم میں شامل ہو گئے ہیں۔ پیٹ کمنز نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں سابق آسٹریلوی کپتان گریگ چیپل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ عدالت کے حکم کے مطابق طبی معائنہ مکمل کیا جائے گا اور خاندان سے ملاقاتیں بحال رہیں گی۔ کمنز پہلے فعال بین الاقوامی کپتان ہیں جنہوں نے اس معاملے پر کھل کر بات کی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل دنیا بھر کے اکیس سابق بین الاقوامی کپتانوں نے بھی وزیر اعظم شہباز شریف کے نام ایک خط ارسال کیا تھا جس میں عمران خان کے لیے آزادانہ طبی معائنے کی اپیل کی گئی تھی۔