Health
پاکستان میں بچوں کی اسٹنٹنگ اور معاشی اثرات
پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے چالیس فیصد بچے قد چھوٹا ہونے یعنی اسٹنٹنگ کا شکار ہیں، جو ملک کی معیشت اور مستقبل کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ملک میں صحت اور غذائیت کے امور پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔
پاکستان میں نوجوان نسل کو مستقبل کے اقتصادی ترقی کا ضامن سمجھا جاتا ہے، لیکن ایک تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً چالیس فیصد بچے اسٹنٹنگ یعنی جسمانی اور ذہنی نشوونما کی کمی کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ بچے اپنی عملی زندگی کا آغاز کرنے سے پہلے ہی ایک بڑے نقصان اور خسارے سے دوچار ہو چکے ہیں۔ بچوں میں اس محرومی کی بنیادی وجوہات میں حمل کے دوران ماں کی ناقص خوراک، بار بار ہونے والے انفیکشنز اور غیر صحت مندانہ ماحول شامل ہیں۔ حکومتی سطح پر صحت اور تعلیم کے لیے ناکافی بجٹ مختص کرنا اور عوامی صحت پر کم خرچ کرنا ایسے امور ہیں جنہیں اکثر معاشی تنگی کے وقت پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ تاہم، بچپن کے ابتدائی دور میں ترقی اور نشوونما کا یہ نقصان انسان کے ساتھ جوانی اور بعض اوقات اگلی نسل تک منتقل ہو جاتا ہے۔
اس سنگین بحران کے معاشی اثرات انتہائی وسیع اور ہولناک ہیں۔ غذائی قلت کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ سترہ ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ زچگی کے دوران اموات کی شرح بھی فی ایک لاکھ زندہ پیدائشوں پر ایک سو پچپن تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک موڈ پر کھڑا ہے۔ اگر موجودہ روش برقرار رکھی گئی تو پوری ایک نسل کی صلاحیتوں کو ضائع ہونے سے نہیں روکا جا سکتا۔ اس بحران کے تدارک کے لیے 'ایکٹ فار نیوٹریشن' جیسی مہمات اور بین الاقوامی کانفرنسیں اہمیت کی حامل ہیں، جو ماؤں اور بچوں کی ناقص خوراک جیسے نظر انداز کیے جانے والے مسائل کو کھل کر سامنے لا رہی ہیں۔
اس مسئلے کے تدارک اور اس کی روک تھام کے لیے بین الاقوامی فلاحی رہنماؤں، عالمی اداروں کے نمائندوں اور صوبائی حکومتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جا رہا ہے تاکہ اس بحران کی وجوہات کا احاطہ کیا جا سکے۔ غذائیت کی کمی کے اس مسئلے میں غربت، زچگی کے دوران خوراک کی کمی، خوراک دینے کے غلط طریقے، گورننس کے مسائل، فنڈنگ کی کمی، موسمیاتی تبدیلیاں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کا فقدان جیسے عوامل شامل ہیں۔ کانفرنس اور دیگر فورمز پر ان تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ عملی اور قابلِ عمل حل تلاش کیے جا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کو اپنے بچوں اور معیشت کا مستقبل محفوظ بنانا ہے تو صحت اور غذائیت کے شعبے میں فوری اور موثر اصلاحات لانا ہوں گی۔ عوامی اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں کے بغیر اس بحران پر قابو پانا ممکن نہیں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران نہ صرف موجودہ معیشت کو تباہ کرتا رہے گا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ترقی کے تمام راستے مسدود کر دے گا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو اس چیلنج کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہوگا تاکہ ملک کی نوجوان افرادی قوت کو پیداواری اثاثے میں تبدیل کیا جا سکے۔