World
غزہ میں حماس کی عسکریتگزی کے خاتمے اور سیاسی منتقلی کا نیا روڈ میپ
امریکہ کی حمایت یافتہ اس نئی تجویز کے تحت فریقین کو دو ہفتوں کے اندر سیاسی منتقلی کے عمل کو حتمی شکل دینا ہوگی۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد غزہ میں طویل المدتی استحکام اور امن کی راہ ہموار کرنا ہے۔
بین الاقوامی سفارتی ذرائع کے مطابق غزہ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور مستقل امن کے قیام کے لیے ایک نیا تین سالہ روڈ میپ تجویز کیا گیا ہے۔ اس اہم ترین پیشرفت کا مقصد ایک طرف جہاں تنازعے کے بنیادی اسباب کو ختم کرنا ہے وہیں دوسری طرف علاقے میں سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کو از سر نو تشکیل دینا بھی شامل ہے۔ امریکی حمایت یافتہ اس مجوزہ منصوبے کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے اور خطے کے مستقبل کے حوالے سے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کے لیے سخت ڈیڈ لائنز مقرر کی گئی ہیں۔
منصوبے کے ابتدائی مراحل کے مطابق حماس اور اسرائیل کو یہ طے کرنے کے لیے صرف چودہ دن کا وقت دیا گیا ہے کہ وہ اس سیاسی منتقلی کے عمل کو کیسے حتمی شکل دیں گے۔ اس دو ہفتے کی مدت میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور غزہ کے انتظامی امور کی باگ ڈور عبوری حکام کے حوالے کرنے کے امور پر بنیادی اتفاق رائے پیدا کیا جانا مقصود ہے۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین اس ابتدائی مرحلے پر متفق ہوجاتے ہیں تو یہ مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔
تین سال پر محیط اس وسیع تر روڈ میپ میں غزہ کی تعمیر نو، سکیورٹی کے نئے انتظامات اور مقامی سطح پر حکمرانی کے امور کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ بین الاقوامی برادری اور خطے کے چند اہم ممالک اس پورے عمل کی نگرانی کریں گے تاکہ کسی بھی فریق کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار زمینی حقائق اور فریقین کے سیاسی عزم پر ہے کیونکہ ماضی میں بھی اس قسم کے کئی امن منصوبے ناکام ہوچکے ہیں۔
حالیہ تجویز کے منظر عام پر آنے کے بعد علاقائی اور عالمی سطح پر ملا جلا ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں جنگ سے ستائے ہوئے عام فلسطینی شہری کسی بھی ایسے سمجھوتے کے حامی ہیں جو انہیں مستقل امن اور ریلیف فراہم کرے، وہیں دوسری طرف سیاسی رہنما اس کے نفاذ میں درپیش چیلنجز پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ہوں گے کہ آیا فریقین اس چودہ روزہ مہلت کے اندر کوئی قابل عمل لائحہ عمل طے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔