LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں سخت قوانین اور مسیحی برادری کے تحفظات

News Image
بھارت کے مختلف حصوں بالخصوص ریاست مہاراشٹر میں جبری تبدیلی مذہب کے نئے اور سخت قوانین نافذ ہونے کے بعد مسیحی برادری میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ گرجا گھروں کو قانونی کارروائی سے بچنے کے لیے اتوار کے روز حاضری کے رضاکارانہ فارم پر دستخط کرانے اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
بھارت کے مالیاتی حب ممبئی میں اتوار کے روز عبادت کے لیے گرجا گھر جانے والے افراد کو ایک نئے اور پریشان کن مرحلے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ اب انہیں عبادت میں شرکت سے قبل ایک فارم پر دستخط کرنا ہوتے ہیں جس میں یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے عبادت میں شریک ہیں اور ان پر مذہب تبدیل کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔ مہاراشٹر کے مغربی صوبے کے ممبئی میٹروپولیٹن علاقے میں تقریباً چار ہزار گرجا گھروں نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ جبری تبدیلی مذہب کے متنازع قانون کے نفاذ سے قبل وہ اس طرح کے 'رضامندی کے فارم' جمع کریں تاکہ خود کو ممکنہ قانونی کارروائی سے محفوظ رکھا جا سکے۔ بمبئی کیتھولک سوسائٹی کے ترجمان ڈولفی ڈی سوزا کے مطابق یہ رضامندی کے فارم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کم از کم حفاظتی اقدام ہیں کہ اگر کوئی پادریوں یا گرجا گھروں پر زبردستی مذہب تبدیل کرانے کا جھوٹا الزام لگائے تو ان کا قانونی دفاع کیا جا سکے۔ پچھلے چھ مہینوں کے دوران ہندو دائیں بازو کے گروپوں کی طرف سے دعاؤں اور عبادات میں مداخلت کے درجنوں واقعات پیش آ چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ گرجا گھروں کو سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔ ممبئی میں یہ دفاعی اقدامات بھارتی حکومت کی مبینہ طور پر امتیازی پالیسیوں کا ردعمل ہیں، کیونکہ بھارت میں مسیحی آبادی کا تقریباً 2.3 فیصد حصہ ہیں اور وہ ملک کی تیسری بڑی مذہبی اقلیت ہیں۔ مہاراشٹر میں 'فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026' کے نفاذ کے بعد سے مسیحی برادری میں اندیشے مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس قانون کے تحت اگر کوئی شخص مذہب تبدیل کرنا چاہے تو اسے ساٹھ دن قبل حکام کو مطلع کرنا لازمی ہے اور قواعد کی خلاف ورزی پر سات سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ سول سوسائٹی کی بیس تنظیموں نے ممبئی میں پریس کانفرنس کے دوران اس قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے ذاتی آزادی میں مداخلت قرار دیا ہے۔ بھارت میں ماضی کے ادوار سے کچھ ریاستوں میں اس نوعیت کے قوانین موجود ہیں، تاہم پچھلے ایک دہائی کے دوران نریندر مودی کی بر سر اقتدار جماعت بی جے پی کے دور میں ان قوانین میں مزید سختی لائی گئی ہے۔ اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں بھی پادریوں اور عام عبادت گزاروں کی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، جس سے مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسیحیوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔