LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان کا امریکہ میں مؤقف: سندھ طاس معاہدے پر بھارت کا یکطرفہ رویہ ناقابل قبول

News Image
پاکستان کے سفیر نے امریکہ میں بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی مکمل پاسداری کرے اور تمام یکطرفہ اقدامات کو فوری طور پر واپس لائے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی خبردار کیا ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے گہرے اور خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
واشنگٹن: پاکستان کے امریکہ میں تعینات سفیر اور اعلیٰ حکام نے عالمی برادری اور امریکہ پر واضح کیا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) کی روح کے مطابق عمل کرنا چاہیے اور اس کے تمام یکطرفہ اقدامات کو کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔ پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پانی جیسے بنیادی انسانی اور معاشی وسائل کو دباؤ یا ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کسی بھی کوشش کے خطے اور دنیا پر انتہائی منفی اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اس معاملے پر سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی دریاؤں اور مشترکہ آبی وسائل کو کبھی بھی سفارتی یا سیاسی مفادات کے لیے ہتھکنڈے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھانے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے اور بھارت کی جانب سے معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے یا اس میں ترمیم کے یکطرفہ بیانات کے بعد پاکستانی وزارت خارجہ نے عالمی سطح پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اسلام آباد کی طرف سے یہ مؤقف مسلسل اپنایا جا رہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان ایک طے شدہ اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ فریم ورک ہے، جسے کسی ایک فریق کی مرضی سے معطل یا تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ عالمی ماہرین نے بھی اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آبی تنازعات خطے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ امریکہ اور دیگر مغربی دارالحکومتوں میں پاکستانی سفارتی مشنز اس معاملے پر متحرک ہو چکے ہیں اور وہ عالمی شراکت داروں کو بھارتی عزائم سے آگاہ کر رہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارت کے جارحانہ اور یکطرفہ اقدامات نہ صرف دو طرفہ معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ جنوبی ایشیا کے کروڑوں انسانوں کی بقا اور سلامتی کے لیے بھی ایک بڑا خطرہ ہیں۔ پاکستان اپنے مؤقف پر پوری طرح قائم ہے اور وہ آبی سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔