World
کینیڈا میں ڈگ فورڈ کا ٹرمپ کے خلاف لیک امریکہ نام کے معاملے پر ردعمل
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے امریکی صدر کی جانب سے جھیل کا نام تبدیل کرنے کی کوشش کے خلاف علامتی بورڈ آویزاں کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد مقامی جغرافیائی شناخت اور تاریخی نام کا دفاع کرنا ہے۔
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے امریکی صدر کی جانب سے مشہور آبی ذخیرے کا نام تبدیل کرنے کی کوششوں پر ایک بھرپور اور علامتی ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ یہ سارا تنازع اس وقت شروع ہوا جب امریکی صدر نے کینیڈا اور امریکہ کے درمیان واقع اس تاریخی آبی مقام کو 'لیک امریکہ' کا نام دینے کی خواہش ظاہر کی، جسے کینیڈین حلقوں میں شدید ناپسندیدہ قرار دیا گیا۔
اس امریکی کوشش کے جواب میں ڈگ فورڈ کی حکومت نے باضابطہ طور پر ایک بڑا 'لیک اونٹاریو' کا سائن بورڈ آویزاں کر دیا ہے تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ کینیڈا اپنی جغرافیائی حدود، تاریخی ورثے اور روایتی ناموں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ مقامی سطح پر ڈگ فورڈ کے اس اقدام کو خوب سراہا جا رہا ہے اور عوامی سطح پر بھی اسے کینیڈین خودمختاری کے دفاع سے جوڑا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے علامتی اقدامات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ثقافتی اور سیاسی سطح پر پائے جانے والے چھوٹے تناؤ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ معاملہ بظاہر ایک نام کی تبدیلی سے متعلق ہے تاہم کینیڈین سیاست دانوں نے اس پر فوری اور دوٹوک مؤقف اپنا کر واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے قومی اثاثوں کے نام کی تبدیلی کو خاموشی سے قبول نہیں کریں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے علامتی تنازعات دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات میں ایک نیا رخ پیدا کرتے ہیں جہاں عوامی جذبے اور مقامی رہنما اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے فوری طور پر میدان میں آ جاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سفارتی بیانات سامنے آنے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔