LIVE
Loading Breaking News...

ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز کا سیوطہ میں تارکین وطن کے معاملے پر سخت بیان

News Image
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے مراکش سے سیوطہ آنے والے تارکین وطن کے بڑے پیمانے پر رش کو ملک کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسپین اپنی سرحدوں کے دفاع اور ملکی خود مختاری کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حال ہی میں مراکش کی سرحد سے ملحقہ ہسپانوی انکلیو سیوطہ میں تارکین وطن کے غیرمعمولی اور بڑے پیمانے پر ریلے کو اسپین کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ہزاروں کی تعداد میں تارکین وطن نے اچانک سرحد عبور کرنے کی کوشش کی جس سے خطے میں انتظامی اور سیکورٹی بحران پیدا ہو گیا۔ وزیراعظم سانچیز نے اپنے ایک سخت گیر پالیسی خطاب میں واضح کیا کہ اسپین کسی بھی ملک کو اپنی سرحدوں اور خود مختاری کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف دو طرفہ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین اور سرحدی معاہدوں کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔ ہسپانوی حکومت نے اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر اضافی سکیورٹی فورسز اور بارڈر گارڈز کو سیوطہ کے علاقے میں تعینات کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی حصار کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے اچانک اور بڑے پیمانے پر دراندازی کے واقعات کو روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسپین کی مرکزی حکومت نے یورپی یونین سے بھی پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے ہسپانوی حکومت کو مالی اور سفارتی مدد فراہم کرے کیونکہ امیگریشن کا یہ دباؤ اکیلے اسپین کے لیے برداشت کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گرما گرم بحث جاری ہے اور اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ سرحدی سکیورٹی کو مزید فول پروف بنائے تاکہ ملک کے اندرونی امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی غیر قانونی مداخلت کا مؤثر طریقے سے سدباب کیا جا سکے۔