Pakistan
گل پلازہ آتشزدگی: انتظامیہ حفاظتی اقدامات میں ناکام، انکوائری رپورٹ جاری
کراچی کے معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں لگنے والی خوفناک آگ کے معاملے پر انکوائری کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عمارت میں ہائڈرنٹس، اسپرنکلرز اور الارم سسٹم موجود نہیں تھا اور انتظامیہ کوتاہی کی مرتکب پائی گئی۔
کراچی کے مصروف تجارتی مرکز گل پلازہ میں پیش آنے والے خوفناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد قائم کیے جانے والے جوڈیشل کمیشن نے اپنی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق گل پلازہ کی انتظامیہ عمارت میں موجود سنگین حفاظتی خامیوں سے مکمل طور پر باخبر تھی، تاہم اس کے باوجود کسی قسم کے مؤثر اور فوری حفاظتی اقدامات کرنے سے گریز کیا گیا جس کی وجہ سے یہ بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ فائر ڈیپارٹمنٹ اور سول ڈی defesa کے ذرائع کے مطابق یہ حادثہ انتظامی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ شاپنگ سینٹر کی عمارت اندرونی طور پر انتہائی خطرناک صورتحال سے دوچار تھی جہاں آگ بجھانے کے بنیادی انتظامات سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ عمارت میں نہ تو ہائڈرنٹس کا مناسب نظام نصب تھا اور نہ ہی کسی قسم کے اسپرنکلرز یا فعال فائر الارم سسٹم کا وجود پایا گیا جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ابتدائی وارننگ دے سکے۔ اس سے قبل سال 2024 اور 2025 کے دوران سول ڈیفنس کی جانب سے کی جانے والی انسپیکشن رپورٹس میں بھی انہی تمام خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور انتظامیہ کو نوٹس جاری کیے گئے تھے، مگر انتباہات کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا۔
واقعے کے روز جب آگ نے شاپنگ سینٹر کو اپنی لپیٹ میں لیا تو فائر ڈیپارٹمنٹ کے کارکنوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی کے ذرائع کی عدم دستیابی اور اندرونی راستے تنگ ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں شدید رکاوٹیں آئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سول ڈیفنس کی رپورٹس پر بروقت عمل درآمد کرتے ہوئے فائر سیفٹی کے ضوابط کو لاگو کیا جاتا تو اتنے بڑے جانی اور مالی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
اب اس معاملے پر عوامی اور کاروباری حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ غفلت کے ذمہ دار تمام افراد اور متعلقہ اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ حکومت سندھ اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ کراچی کے تمام تجارتی مراکز کی فوری طور پر جامع فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تیار کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے ہولناک سانحات سے بچا جا سکے۔