LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال آتشزدگی: وزیراعظم کا ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

News Image
وزیر اعظم نے اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں آٹھ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دے دیا ہے۔ اس المناک واقعے کے بعد ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا نیا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد حکومت نے سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ میں نامزد آٹھ افراد کے خلاف فوری معطلی اور فوجداری کارروائی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والے نومولود بچے کے لواحقین اور بالخصوص غم سے نڈھال والدہ جاویریا کے صدمے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس پر اعلیٰ ترین سطح پر نوٹس لیا گیا تھا۔ سرکاری احکامات کے مطابق غفلت کے مرتکب پمز ہسپتال کے متعلقہ عہدیداروں اور سکیورٹی کمپنی کے ذمہ دار حکام کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس سانحے کے بعد ہسپتال کے انتظامی امور کو چلانے کے لیے فوری طور پر اہم تقرریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز ہسپتال کا نیا قائم مقام سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے جن کے ذمے انتظامی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور سکیورٹی و حفاظتی انتظامات کا از سر نو جائزہ لینا ہے۔ متاثرہ والدین اور عوامی حلقوں کی جانب سے اس واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا تھا، اور مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ غفلت برتنے والے کسی بھی شخص کو معاف نہ کیا جائے۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی ان ابتدائی کارروائیوں کو متاثرین کے لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھنے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں مزید افراد کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ہسپتال ذرائع کے مطابق انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تمام وارڈز میں فائر سیفٹی کے نظام کو فوری طور پر اپ گریڈ کرے تاکہ مریضوں بالخصوص نومولود بچوں اور انتہائی نگہداشت کے وارڈز میں موجود افراد کی جانوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔