Pakistan
کراچی ڈی ایچ اے جھگڑا کیس: پولیس کی مبینہ شمولیت پر تحقیقات شروع
کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ایک خاتون اور مرد کے درمیان جھگڑے اور ہاتھا پائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آئی ہے، جس میں ایک پولیس اہلکار کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے فلیٹ خالی کر دیا ہے جبکہ پولیس حکام نے واقعے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پیش آنے والے ایک پرتشدد اور پراسرار واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد متعلقہ حکام نے سخت نوٹس لیتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس اہلکار کی شمولیت پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی کھلبلی مچا دی ہے جہاں شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس طرح کے رویے پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ سامنے آنے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون، جس کے ہاتھ میں مبینہ طور پر ڈمبل موجود ہے، ایک شخص کے ساتھ گرما گرم بحث اور جھگڑے میں مصروف ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس پوری کشیدہ صورتحال کے دوران ایک پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود دکھائی دیتا ہے جو اس تماشا کا حصہ بنتا نظر آ رہا ہے۔ اس واقعے کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور سکیورٹی انتظامات پر بھی سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس ناخوشگوار واقعے اور ممکنہ دباؤ کے بعد متاثرہ خاندان نے خوفزدہ ہو کر متعلقہ فلیٹ کو چھوڑ دیا ہے اور کسی دوسری محفوظ جگہ منتقل ہو گئے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو شدید خطرات لاحق تھے جس کی وجہ سے وہ فوری طور پر گھر خالی کرنے پر مجبور ہوئے۔ اس واقعے میں استعمال ہونے والی ڈبل کیبن گاڑی کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جو فوٹیج میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اعلیٰ پولیس حکام نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعی کوئی پولیس اہلکار اس غیر قانونی اور غنڈہ گردی کے واقعے میں براہ راست ملوث تھا یا نہیں۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں ہے اور اگر اس میں کوئی بھی اہلکار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف محکمانہ اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شہریوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔