LIVE
Loading Breaking News...

پمز ہسپتال واقعہ: ہیلتھ سیکرٹری عہدے سے برطرف، تحقیقات جاری

News Image
وفاقی دارالحکومت کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش آنے والے واقعے اور غفلت کے بعد ہیلتھ سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ کارروائی ہسپتالوں کے باقاعدہ معائنے سے متعلق بار بار دی جانے والی ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کی گئی۔
اسلام آباد کے معروف سرکاری ہسپتال پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حالیہ دنوں پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ہیلتھ سیکرٹری کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ہسپتال کے امور اور حفاظتی انتظامات میں سنگین غفلت اور کوتاہی کے پیش نظر کیا گیا ہے، جس نے پورے طبی شعبے میں ہلچل مچا دی ہے۔ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ کے باہر پیش آنے والے اس واقعے نے انتظامی صلاحیتوں پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق، معزول ہونے والے سیکرٹری صحت کو متعلقہ حکام کی جانب سے بارہا ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ وہ ملک کے اہم ترین طبی اداروں بالخصوص پمز ہسپتال کا باقاعدگی سے دورہ اور معائنہ کریں۔ تاہم، ابتدائی رپورٹس اور اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ موصولہ احکامات کے باوجود ہسپتالوں کی انسپکشن اور مانیٹرنگ کے عمل کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی اور قیمتی جانوں کو خطرات لاحق ہوئے۔ اس فیصلے کے بعد وزارتِ صحت کے اندر بھی انتظامی ردوبدل کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جبکہ حکام کی جانب سے پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے بھی اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ غفلت کے ذمہ دار تمام عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے اندمناک حادئات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت اور ہسپتالوں کے نظام میں کسی قسم کی کوتاہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پمز ہسپتال کے واقعے کے تناظر میں تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں سکیورٹی، فائر سیفٹی اور طبی سہولیات کا از سر نو جائزہ لینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں تاکہ مریضوں کو محفوظ اور معیاری ماحول فراہم کیا جا سکے۔