World
سندھ طاس معاہدہ: اسحاق ڈار کا یکطرفہ مداخلت پر سخت انتباہ
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے میں یکطرفہ مداخلت خطے کے امن اور سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تاریخی معاہدے میں معطلی کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدے (Indus Waters Treaty) میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ مداخلت کے جنوبی ایشیا کے خطے پر انتہائی گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ وہ اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے کے موضوع پر منعقدہ ایک اہم سیمینار سے کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں پانی کے وسائل اور آبی سلامتی کے حوالے سے چیلنجز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک تسلیم شدہ اور بین الاقوامی سطح پر حمایت یافتہ فریم ورک ہے، جسے دونوں ممالک کی رضامندی کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
اسحاق ڈار نے اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ اس تاریخی آبی معاہدے میں کسی بھی فریق کی طرف سے یکطرفہ معطلی یا اس میں تبدیلی کی کوئی قانونی شق موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے کے طے شدہ اصولوں کے مطابق اس طرح کے اقدام نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو کشیدہ کرتے ہیں بلکہ اس سے پورے خطے کی سلامتی بھی شدید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ سیمینار کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے جائز حقوق اور آبی مفادات کا بھرپور دفاع کرے گا اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا یکطرفہ کارروائی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، نائب وزیر اعظم کا یہ بیان پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی بھرپور عکاسی کرتا ہے کہ بین الاقوامی معاہدوں کی پاسداری تمام فریقین کے لیے یکساں طور پر ضروری ہے۔ تقریب میں ماہرینِ قانون، آبی امور کے ماہرین اور سفارت کاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی جنہوں نے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اور خطے کی سلامتی پر اس کے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ شرکاء کا ماننا تھا کہ پانی جیسے حساس اور انسانی بقا سے جڑے ہوئے معاملے پر یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا ہی خطے کے مفاد میں ہے تاکہ کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی راہیں ہموار کی جا سکیں