Politics
اسحاق ڈر کا برطانوی مطالبہ مسترد، روچڈل ریپسٹ کی واپسی کا کوئی میکانزم نہیں
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈر نے برطانوی ہم منصب سے ملاقات میں روچڈل گینگ کے سرغنہ کو پاکستان واپس بھیجنے سے متعلق دوطرفہ میکانزم نہ ہونے کا واضح کر دیا۔ پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مجرم کی واپسی کی اپیل کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا ہے۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈر نے اپنے دورہ برطانیہ کے دوران برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ سے اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات سمیت کئی اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، تاہم سرکردہ خبر روچڈل گرومنگ گینگ کے ایک مجرم کی پاکستان واپسی کے برطانوی مطالبے کے گرد گھومتی رہی۔ پاکستان نے برطانیہ کی اس اپیل کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ایسے مجرم کو پاکستان واپس لینے کا کوئی باضابطہ دوطرفہ میکانزم یا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈر نے برطانوی وزیر خارجہ پر واضح کیا کہ قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس قسم کے مطالبات پر فوری عمل درآمد ممکن نہیں ہے کیونکہ دونوں ریاستوں کے درمیان قیدیوں کے تبادلے یا اس نوعیت کے مجرموں کی واپسی کے لیے کوئی طے شدہ ضابطہ کار کارفرما نہیں۔
برطانیہ کی جانب سے یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب روچڈل گرومنگ گینگ کے مجرم کے معاملے پر برطانوی سیاسی اور سماجی حلقوں میں بحث جاری تھی۔ تاہم اسلام آباد کی طرف سے اس دوٹوک موقف کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ فی الحال اس مجرم کی پاکستان منتقلی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے۔ دونوں رہنماؤں نے مستقبل میں باہمی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔