Pakistan
کوئٹہ کان حادثہ: شانگلہ میں 28 مزدوروں کی شہادت پر سوگ
کوئٹہ کے قریب سورنگ فیلڈ میں گیس دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے 28 نوجوان کان کنوں کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد شانگلہ کے علاقے میان کلی میں ہر گھر ماتم کدہ بنا ہوا ہے اور لواحقین شدید غم میں مبتلا ہیں۔
خیبر پختونخوا کے ضلع شانگلہ میں کوئٹہ کے قریب پیش آنے والے دلخراش کوئلہ کان حادثے میں جاں بحق ہونے والے 28 نوجوان کان کنوں کی لاشیں پہنچنے پر پورے علاقے میں کہرام مچ گیا ہے۔ جمعرات کے روز کوئٹہ کے نواحی علاقے سورنگ کوئلہ فیلڈ میں میتھین گیس کا زور دار دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں کان بیٹھ گئی اور آگ لگ گئی۔ اس المناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے 28 مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے تھا جن میں سے 23 کا تعلق اکیلے میان کلی (پیر آباد) کے علاقے سے تھا۔ شانگلہ کول مائن ورکرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس حادثے نے میان کلی کے تقریباً ہر گھر کو اجاڑ دیا ہے کیونکہ جاں بحق ہونے والے نوجوانوں کی عمریں 17 سے 25 سال کے درمیان تھیں اور وہ آپس میں قریبی رشتہ دار یا چچا زاد بھائی تھے۔ ایسوسی ایشن کے صدر عابد یار نے بتایا کہ اس بدقسمت گاؤں کے کئی بچے ایسے بھی یتیم ہو چکے ہیں جن کے والد ماضی میں اس طرح کے دیگر کان حادثات میں لقمہ اجل بن چکے تھے۔ مقامی افراد اور مزدور رہنماؤں نے اس سانحے کی بنیادی وجہ کان انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت اور حفاظتی انتظامات کا فقدان قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی اس کان میں ہوا کی نکاسی کا کوئی مناسب نظام موجود نہیں تھا جس کی وجہ سے گیس جمع ہوئی اور یہ جان لیوا دھماکہ پیش آیا۔ شانگلہ میں روزگار کے مناسب مواقع اور فیکٹریوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے یہاں کے نوجوان پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے مجبوراََ جان جوکھوں میں ڈال کر ان خطرناک کانوں میں مزدوری کرنے جاتے ہیں۔ لواحقین نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے پیاروں کی لاشیں آبائی علاقوں تک لانے کے لیے ایمبولینس تک فراہم نہیں کی گئیں بلکہ انہیں اپنے ہی خرچے پر وین کے ذریعے میتیں لانی پڑیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق جمعے کی شام پہلی میت شانگلہ پہنچی جبکہ باقی لاشیں بھی رات گئے اور ہفتے کی صبح تک پہنچنے کا سلسلہ جاری رہا۔ اس المناک حادثے میں تین سگے بھائی بھی شامل ہیں جنہوں نے ایک ساتھ اپنی جانیں گنوائیں۔ یاد رہے کہ امدادی ٹیموں نے رات بھر آپریشن جاری رکھتے ہوئے دو کانوں سے اب تک 32 لاشیں برآمد کر لی ہیں جبکہ دیگر مزدوروں کی تلاش کا کام بھی جاری ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے اداروں نے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ کان کنوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ غریب مزدوروں کے گھر یوں اجڑنے سے بچ سکیں۔