Pakistan
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا آی۔ت نور کیس پر اہم دورہ
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پانچ سالہ مقتولہ آی۔ت نور کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے انہیں انصاف کی مکمل یقین دہانی کرائی اور سخت ترین قوانین بنانے کا اعلان کیا۔ وزیر اعلیٰ نے متاثرہ خاندان کے لیے ایک لاکھ روپے معاوضے اور سرکاری نوکری کا بھی اعلان کیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے حال ہی میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد پانچ سالہ مقتولہ آی۔ت نور کے خاندان سے ملاقات کی اور ان سے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ اس المناک واقعے میں پانچ سالہ معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کر کے اس کی لاش کنویں میں پھینک دی گئی تھی، جس پر پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پولیس نے اس گھناؤنے جرم میں چار لڑکوں کو گرفتار کر لیا ہے اور تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
متاثرہ خاندان سے تعزیت کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے عزم ظاہر کیا کہ اس کیس کے ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے حوانہ صفت جرائم کا سدباب کیا جا سکے۔ انہوں نے صوبے میں بچوں کے تحفظ کے لیے مزید سخت قوانین متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت بچوں کے حقوق اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ اس کے علاوہ، وزیر اعلیٰ نے صوبے میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قانون (چائلڈ پروٹیکشن بل) کا نام تبدیل کر کے مقتولہ آی۔ت نور کے نام سے منسوب کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔
متاثرہ خاندان کی مالی امداد اور بحالی کے لیے وزیر اعلیٰ نے ایک لاکھ روپے مالی معاوضے اور خاندان کے ایک فرد کو سرکاری نوکری دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست اس مشکل وقت میں سوگوار خاندان کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں انصاف کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے اس عزم کے بعد عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے تاہم اس بات پر بھی زور دیا جا رہا ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام کے لیے عملی اور دیرپا اقدامات ناگزیر ہیں۔