Business
دیامر بھاشا ڈیم کا پاور کمپونینٹ منسوخ نہیں ہوا: حکومت اور واپڈا کی تردید
حکومت اور واپڈا نے دیامر بھاشا ڈیم کے 4500 میگاواٹ کے بجلی پیدا کرنے والے منصوبے کی منسوخی سے متعلق خبروں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسٹریٹجک اہمیت کے اس اہم منصوبے پر کام طے شدہ منصوبے کے مطابق جاری ہے۔
اسلام آباد: حکومت پاکستان اور واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ان خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کے 4,500 میگاواٹ کے بجلی پیدا کرنے والے کمپونینٹ کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں گردش کرنے والی یہ اطلاعات سراسر بے بنیاد، فرضی اور حقائق کے منافی ہیں۔ ڈیم کی تعمیر کا بنیادی مقصد ملک میں پانی کی ذخیرہ اندوزی کے ساتھ ساتھ سستی پن بجلی کا حصول بھی ہے، اور اس مقصد سے کسی قسم کا کوئی انحراف نہیں کیا جا رہا۔
ترجمان کے مطابق دیامر بھاشا ڈیم ملک کا ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک اور اقتصادی پراجیکٹ ہے جو پاکستان کی طویل مدتی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ساڑھے چار ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوار کا ہدف اپنی جگہ برقرار ہے اور اس پر تکنیکی اور فزیکل اعتبار سے کام تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ حکومت اس قومی منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور اس حوالے سے درکار تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
واپڈا کے اعلیٰ حکام نے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی من گھڑت افواہیں نہ صرف قومی مفاد کے خلاف ہیں بلکہ سرمایہ کاروں اور عوام میں بھی غیر ضروری ابھاشا پیدا کرتی ہیں۔ ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پانے اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے مقامی آبی وسائل سے بجلی پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم کے اس پاور کمپونینٹ کی منسوخی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ یہ منصوبہ ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
حکومت نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی حساس نوعیت کی خبر کو نشر یا شائع کرنے سے متعلقہ اداروں سے تصدیق ضرور کیا کریں۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر سے متعلق تمام تر پیش رفت اور رپورٹس کو باضابطہ طور پر شیئر کیا جاتا ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔ پراجیکٹ پر کام کرنے والی تمام ٹیمیں دن رات محنت کر رہی ہیں اور یہ قومی منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل ہوگا۔