LIVE
Loading Breaking News...

کراچی اسپتال میں نومولود کی گمشدگی اور طبی تنازع

News Image
کراچی کے ایک نجی اسپتال میں نومولود کی گمشدگی کا پراسرار واقعہ سامنے آیا ہے جہاں اہل خانہ نے بچے کے اغوا کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب اسپتال انتظامیہ اور ڈاکٹروں نے طبی معائنے کی بنیاد پر خاتون کے حاملہ ہونے سے ہی انکار کر دیا ہے۔
کراچی کے علاقے ناظم آباد میں واقع ایک نجی اسپتال میں نومولود کی مبینہ گمشدگی کا ایک انتہائی پراسرار اور پیچیدہ معاملہ سامنے آیا ہے، جس نے علاقے میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک خاتون کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسپتال میں بچے کی پیدائش کے بعد وہ اچانک غائب ہو گیا ہے، اور اس حوالے سے انہوں نے اسپتال کی انتظامیہ پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں نے بھی معاملے کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ حقائق کا تعین کیا جا سکے۔ تاہم، اس معاملے کا دوسرا رخ انتہائی چونکا دینے والا ہے کیونکہ اسپتال کی انتظامیہ اور علاج کرنے والے ڈاکٹروں نے نومولود کی پیدائش کے دعوے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ ڈاکٹروں کا مؤقف ہے کہ اس حوالے سے کیے جانے والے ابتدائی طبی ٹیسٹس اور معائنے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ متعلقہ خاتون طبی طور پر حاملہ ہی نہیں تھیں۔ اسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جس بچے کی گمشدگی یا اغوا کا شور مچایا جا رہا ہے، اس اسپتال میں اس نام کی کسی پیدائش کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی مستند دستاویزات پیش کی گئی ہیں۔ یہ واقعہ کراچی کے نجی اسپتالوں میں میٹرنٹی کیئر کے نظام، سیکیورٹی اور طبی ریکارڈ کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔ دوسری جانب، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ دونوں فریقین کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں اور خاتون کے طبی ٹیسٹس کی مستند رپورٹس حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ واقعے کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے مزید طبی بورڈ بنانے یا گہرائی سے تفتیش کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کے سامنے سچائی لائی جا سکے۔ اس پُراسرار واقعے کے بعد شہریوں اور سول سوسائٹی میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ایک طرف والدین کا دعویٰ ہے تو دوسری طرف ڈاکٹروں کی رپورٹس اس کے بالکل برعکس ہیں۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون کے مطابق تمام زاویوں سے چھان بین کی جائے گی اور اگر کوئی غفلت یا جعلسازی پائی گئی تو اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ فریقین کے بیانات اور میڈیکل رپورٹس کے حتمی جائزے کے بعد ہی اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔