LIVE
Loading Breaking News...

چین میں روبوٹکس کا انقلاب: ہیومنائڈ روبوٹس اور خاموش مشینی ترقی

News Image
چین میں منعقدہ عالمی روبوٹ کانفرنس کے دوران ہیومنائڈ روبوٹس نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ اس ظاہری چکاچوند کے پیچھے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کی دنیا میں ایک بڑا اور خاموش انقلاب بھی پروان چڑھ رہا ہے۔
چین میں حال ہی میں ہونے والی عالمی روبوٹ کانفرنس نے دنیا بھر کے ماہرینِ ٹیکنالوجی کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ اس نمائش میں اگرچہ ہیومنائڈ روبوٹس اور مصنوعی انسان نما مشینوں نے سب سے زیادہ میلہ لوٹا اور شائقین کو دنگ کر دیا، تاہم اس شوخ و چغل نمائش کے پس منظر میں ایک اور انتہائی اہم اور خاموش مشینی انقلاب بھی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خاموش انقلاب صنعتوں، روزمرہ زندگی اور دفاعی شعبوں میں گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ روبوٹکس کی اس دنیا میں مکسڈ مارشل آرٹس سے لے کر مکینیکل کتوں تک کے نمونے پیش کیے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی اب صرف فیکٹریوں تک محدود نہیں رہی بلکہ پیچیدہ انسانی مہارتوں کو سیکھنے اور سمجھنے کی طرف قدم بڑھا رہی ہے۔ تاہم، مصنوعی ذہانت کی ان کمپنیوں کے لیے اب بھی سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ روبوٹس کو انسانی صلاحیتیں سکھانے میں مدد فراہم کریں، جس کے لیے دنیا بھر کی کمپنیاں اس دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں۔ دوسری جانب، چین میں اس بے پناہ روبوٹک فروغ نے عالمی سطح پر تشویش کی لہر بھی دوڑا دی ہے۔ خاص طور پر امریکہ اور چین کے درمیان روبوٹکس کی اس مسابقت کو سکیورٹی کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ سرمایہ کار اور سکیورٹی کے ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا یہ تیز رفتار تکنیکی ترقی مستقبل میں عالمی معیشت اور دفاعی توازن پر کس قسم کے اثرات مرتب کرے گی۔ بہرحال، یہ بات واضح ہے کہ روبوٹس کا یہ دور اب صرف ایک خیال نہیں بلکہ ایک حقیقت بن چکا ہے۔