LIVE
Loading Breaking News...

شیلین ووڈلی کا اسپائیڈر مین کردار کٹنے پر بڑا انکشاف

News Image
ہولی وڈ اداکارہ شیلین ووڈلی نے انکشاف کیا ہے کہ فلم 'دی امیزنگ اسپائیڈر مین ٹو' میں ان کا میری جین واٹسن کا کردار کیوں نکال دیا گیا تھا۔ انہیں اس بات کا علم فلم کی عکس بندی کے ایک سال بعد ہوا۔
ہولی وڈ کی معروف اداکارہ شیلین ووڈلی نے حال ہی میں ایک انکشاف کیا ہے جس نے ان کے مداحوں کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ معروف سپر ہیرو فلم 'دی امیزنگ اسپائیڈر مین ٹو' میں میری جین واٹسن کے طور پر ان کا کردار کیوں کاٹ دیا گیا تھا۔ اداکارہ کے مطابق، یہ مناظر فلم کی عکس بندی کے پورے ایک سال بعد نکالے گئے تھے، جس کی وجہ سے انہیں شدید صدمہ اور حیرت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تجربے نے انہیں کافی عرصے تک سوچنے پر مجبور کیے رکھا اور وہ اس معاملے میں کافی محتاط ہو گئیں۔ فلمی دنیا میں اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سے ہی مداحوں کی جانب سے مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ شیلین ووڈلی کے لیے یہ ایک خوابیدہ پروجیکٹ تھا کیونکہ وہ اس مشہور کامک بک کردار کو پردہ سکرین پر زندہ کرنے کے لیے بے حد پرجوش تھیں۔ تاہم، فلم سازوں نے کہانی کے دورانیے کو مدنظر رکھتے ہوئے اور اسے مزید مربوط بنانے کے لیے میری جین کے تمام مناظر کو فائنل کٹ سے نکالنے کا مشکل فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کا مقصد ممکنہ طور پر مرکزی کرداروں کے گرد کہانی کو مرکوز رکھنا تھا۔ مارول سنیماٹک کائنات اور اس سے باہر اسپائیڈر مین فرنچائز کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں جہاں بڑے اداکاروں کے اہم مناظر فلمی ڈائریکٹرز کے کاٹنگ روم کی نذر ہو گئے۔ شیلین ووڈلی کا معاملہ بھی انہی میں سے ایک ہے، جو آج بھی شائقین کے درمیان بحث کا موضوع بنا رہتا ہے۔ اداکارہ نے اعتراف کیا کہ اس واقعے کے بعد ان کے اندر ایک طرح کی جھجک پیدا ہو گئی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ انہوں نے اس ہولی وڈ حقیقت کو قبول کر لیا ہے۔