Politics
الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی میں بلدیاتی انتخابات کے لیے تیار، ترامیم پر تحفظات
الیکشن کمیشن نے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کرانے کی مکمل تیاری ظاہر کرتے ہوئے حکومتوں کی جانب سے آخری وقت کی ترامیم کو تاخیر کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ کمیشن نے آئندہ ایسے تعطل سے بچنے کے لیے آئین اور قانون میں اہم ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔
اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے تئیس اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے آخری لمحات میں کی جانے والی بار بار کی ترامیم نے انتخابی عمل کو شدید متاثر کیا ہے۔ کمیشن کے مطابق پنجاب میں ابتدائی حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں اور اعتراضات پر سماعت کا عمل بھی ختم ہو چکا ہے۔ متعلقہ حکام سولہ اگست تک اپنے فیصلے کمیٹی کو ارسال کریں گے جبکہ سترہ اگست کو حتمی حلقہ بندیوں کی اشاعت عمل میں لائے جانے کے بعد پنجاب حکومت سے مشاورت کر کے فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کیا جائے گا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ تئیس اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی سات اضلاع میں یہ عمل جاری ہے۔ قوانین کے تحت الیکشن کمیشن نے صوبائی حکام سے مشاورت بھی کی، لیکن اس دوران صوبائی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے آبادی کے تناسب میں تبدیلی کر دی جس کی وجہ سے حلقہ بندیوں کا عمل شدید متاثر ہوا۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کی قانونی تبدیلیاں عین وقت پر کرنے سے انتظامی اور قانونی الجھنیں پیدا ہوتی ہیں جن کی وجہ سے مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہتا۔
الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 140-اے اور الیکشن ایکٹ کی دفعہ 219 کے تحت اپنی آئینی ذمہ داری کا ذکر کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ کمیشن مقررہ مدت کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ ماضی میں بھی اسلام آباد سمیت تمام صوبوں میں شیڈول جاری کیے گئے مگر حکومتوں کے قانون سازی کے عمل نے ہر بار اس سلسلے کو روکا۔ کمیشن نے اس بحران سے مستقل جان چھڑانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں کہ مدت ختم ہونے کے بعد یا اس کے قریب ترامیم پر پابندی لگائی جائے تاکہ انتخابی عمل شفاف اور وقت پر مکمل ہو سکے۔
علاوہ ازیں، الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بھی یکم اگست سے بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا باضابطہ آغاز کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت کے لیے کمیٹیوں کی تربیت مکمل ہو چکی ہے اور تمام متعلقہ مواد فراہم کر دیا گیا ہے جو کہ تئیس اکتوبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ کمیشن نے وزارت داخلہ سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ مسودہ قواعد کو فوری طور پر نوٹیفائی کیا جائے تاکہ بیلٹ پیپرز اور دیگر انتخابی سامان کی چھپائی کا عمل بروقت شروع ہو سکے۔