LIVE
Loading Breaking News...

فرانسیسی جوڑا اور ڈی این اے ٹیسٹ کی حیرت انگیز کہانی

News Image
فرانس سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے جوڑے کی کہانی سامنے آئی ہے جو سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہوئے تھے۔ فرانس میں گھریلو ڈی این اے ٹیسٹ غیر قانونی ہونے کی وجہ سے دونوں کو اپنے رشتے کی حقیقت جاننے کے لیے کڑی محنت کرنا پڑی۔
فرانس سے ایک انتہائی دلچسپ اور غیر معمولی خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک جوڑے کو محبت کے بعد اس بات کا خوف لاحق ہوگیا کہ آیا وہ کہیں بہن بھائی تو نہیں۔ دونوں افراد کی پیدائش سپرم ڈونر کے ذریعے ہوئی تھی، جس کی وجہ سے ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں ابہام پایا جاتا تھا۔ جب دونوں نے سنجیدہ تعلقات قائم کرنے اور مستقبل میں اولاد پیدا کرنے کا ارادہ کیا، تو ان کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کہیں ان کا حیاتیاتی تعلق آپس میں جڑا ہوا تو نہیں۔ موجودہ دور میں اگرچہ سائنس نے بہت ترقی کر لی ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ عام ہو چکے ہیں، لیکن فرانسیسی قوانین اس معاملے میں کافی سخت ہیں۔ فرانس میں گھریلو سطح پر کیے جانے والے ڈی این اے ٹیسٹ مکمل طور پر غیر قانونی ہیں، جس کی وجہ سے عام شہریوں کے لیے اپنے شجرہ نسب کا فوری پتا لگانا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے اس جوڑے کے لیے اپنے خدشات کو دور کرنا انتہائی مشکل امر بن گیا۔ انہوں نے قانونی اور طبی طریقوں کا سہارا لینے کا فیصلہ کیا تاکہ اس بات کی حتمی تصدیق کی جا سکے کہ وہ آپس میں قریبی رشتہ دار تو نہیں۔ اس صورتحال نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سپرم ڈونر کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کو مستقبل میں کس نوعیت کے طبی اور سماجی مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈونر کے ذریعے پیدائش کے عمل میں رازداری اور بچوں کے حقوق کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔ اس فرانسیسی جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا جدید دور کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں تبدیلی کی ضرورت ہے یا نہیں۔