World
برطانوی نوجوانوں میں جاپان کا سفر کیوں مقبول ہو رہا ہے؟
برطانوی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر جاپان کے مناظر سے متاثر ہو کر اس مشرقی ایشیائی ملک کا رخ کر جا رہی ہے۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ماؤنٹ فوجی کی خوبصورت تصاویر، مزیدار رامن اور جاپانی کرنسی ین کی کم قدری شامل ہیں۔
سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان نسل کی ترجیحات تیزی سے تبدیل ہو رہی ہیں اور ان دنوں برطانوی نوجوانوں میں جاپان کا سفر کرنے کا ایک نیا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک جیسی ایپلی کیشنز پر ماؤنٹ فوجی کی دلفریب تصاویر، گرما گرم رامن کے پیالے اور ٹوکیو کے مشہور شیبویا کراسنگ کی ہلچل نے برطانوی سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ نوجوان نسل ان مناظر کو دیکھ کر اپنے لیے بھی زندگی بدل دینے والے تجربات کی تلاش میں جاپان کا رخ کر رہی ہے۔
اس رجحان کے پیچھے ایک اور اہم ترین معاشی محرک جاپانی کرنسی ین کی کم قدری ہے۔ برطانوی پاؤنڈ کے مقابلے میں جاپانی ین کی قدر میں کمی کی وجہ سے اب برطانوی سیاحوں کے لیے جاپان کا سفر پہلے کے مقابلے میں کافی سستا ہو گیا ہے۔ ہوٹلوں کے کرایوں سے لے کر کھانے پینے اور خریداری تک، تمام اخراجات اب نوجوانوں کے بجٹ کے اندر آ گئے ہیں، جس کی وجہ سے طلباء اور نوکری پیشہ نوجوان بغیر کسی مالی دباؤ کے جاپان کے دورے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
سیاحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان آنے والے مہینوں میں مزید تیزی اختیار کرے گا کیونکہ جاپان کی ثقافت، روایات اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج غیر ملکی سیاحوں بالخصوص مغربی ممالک کے نوجوانوں کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ ٹریول ایجنسیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ برطانیہ سے جاپان کے لیے فلائٹس کی بکنگ میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، اور نوجوان اس منفرد ثقافتی تجربے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔