LIVE
Loading Breaking News...

زبردستی گود لینے کی تاریخ: ماریون میک ملن کا دل دہلا دینے والا انکشاف

News Image
ماریون میک ملن ان ڈھائی لاکھ ماؤں میں شامل ہیں جنہیں 1949 اور 1976 کے دوران زبردستی اپنے بچوں کو گود دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس دور میں بے شمار خواتین کو معاشرتی دباؤ اور حکومتی پالیسیوں کے تحت اپنے نوزائیدہ بچوں سے جدا کیا گیا۔
ماریون میک ملن کی کہانی دنیا کے ان تاریک ترین ابواب میں سے ایک ہے جہاں ریاست اور معاشرے نے مل کر ماؤں اور بچوں کے مقدس رشتے کو زبردستی پامال کیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1949 سے 1976 کے درمیانی عرصے میں تقریباً ڈھائی لاکھ ایسی خواتین تھیں جنہیں ان کے نوزائیدہ بچوں سے زبردستی محروم کر دیا گیا۔ ان خواتین کو بتایا جاتا تھا کہ وہ ماں بننے کے لائق نہیں ہیں یا ان کے حالات بچوں کی پرورش کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب بہت سے ممالک میں غیر شادی شدہ ماؤں یا کم وسائل رکھنے والی خواتین کو شدید سماجی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور سرکاری اداروں نے اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کو ان کے حقیقی والدین سے چھین کر دوسروں کو گود دے دیا۔ ماریون میک ملن کہتی ہیں کہ انہیں بھی اس ظالمانہ نظام کا نشانہ بنایا گیا جہاں ان کی کوئی بات سننے والا نہیں تھا۔ ان کی پیدائش کے فوراً بعد ان کے بچے کو ان کی مرضی کے خلاف لے لیا گیا، جس کا صدمہ انہوں نے اپنی پوری زندگی برداشت کیا۔ اس دور کی پالیسیوں نے ان گنت خاندانوں کو تباہ کر کے رکھ دیا اور ماؤں کے دلوں میں ایک ایسا ناسور چھوڑ دیا جو کبھی مندمل نہیں ہو سکا۔ آج جب اس تاریخی زیادتی پر بات کی جا رہی ہے تو متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ وہ صرف انصاف اور اپنے بچوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا اعتراف چاہتی ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تاریک ماضی کو یاد رکھنا اس لیے ضروری ہے تاکہ مستقبل میں کبھی کسی ماں کو اس درد سے نہ گزرنا پڑے۔