Education
اسکول واپسی کے لیے والدین کی رہنمائی اور بہترین طریقے
والدین اسکول کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ماہرین کی تجاویز پر عمل کر سکتے ہیں۔ یہ طریقے بچوں کو نئے تعلیمی سیشن میں پرسکون رہنے میں مدد دیں گے۔
تعلیمی سال کا آغاز یا طویل تعطیلات کے بعد اسکول کی طرف واپسی اکثر بچوں اور والدین دونوں کے لیے ایک کٹھن اور اعصاب شکن مرحلہ ثابت ہوتا ہے۔ بچوں کے سونے اور جاگنے کے اوقات میں تبدیلی، ہوم ورک کا دباؤ اور نئے ماحول سے مطابقت پیدا کرنا ایسے مسائل ہیں جو تشویش کا باعث بنتے ہیں۔ اس صورتحال کو آسان بنانے کے لیے پیرنٹنگ اور تعلیمی ماہرین نے چند ایسے مؤثر طریقے تجویز کیے ہیں جن پر عمل کر کے اسکول واپسی کے عمل کو انتہائی پرسکون اور خوشگوار بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیاری کا آغاز پہلے سے ہی کر دینا چاہیے تاکہ بچے اچانک تبدیلی کے باعث پریشان نہ ہوں۔
سب سے پہلا اور اہم قدم بچوں کی روزمرہ کی روٹین کو اسکول کے اوقات کے مطابق ڈھالنا ہے۔ تعطیلات کے دوران اکثر بچوں کا سونے اور جاگنے کا وقت بے قاعدہ ہو جاتا ہے، اس لیے اسکول کھلنے سے چند روز قبل ہی انہیں رات کو جلدی سونے اور صبح وقت پر اٹھنے کی عادت ڈالیں۔ دوسرا اہم طریقہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ اسکول کے سامان کی خریداری اور تیاری میں انہیں شامل کیا جائے، جیسے کہ یونیفارم، بیگ اور اسٹیشنری کا انتخاب۔ اس عمل سے بچوں میں جوش و خروش پیدا ہوتا ہے اور وہ تعلیمی سال کے آغاز کے لیے ذہنی طور پر خود کو تیار محسوس کرتے ہیں۔
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ مثبت انداز میں بات چیت کی جائے اور ان کے تمام خدشات یا ڈر کو سنا جائے۔ اگر بچے کو کسی نئے مضمون یا استاد سے خوف محسوس ہو رہا ہے تو اسے تسلی دیں اور اس کا حوصلہ بڑھائیں۔ چوتھا طریقہ یہ ہے کہ اسکول کے بعد کے اوقات کے لیے ایک متوازن شیڈول بنایا جائے جس میں آرام، کھیلنے کودنے اور پڑھائی کے لیے مناسب وقت مختص ہو۔ اس سے بچوں پر ذہنی دباؤ نہیں پڑتا اور وہ تھکن کا شکار نہیں ہوتے۔ پانچواں اہم مشورہ یہ ہے کہ ناشتے اور کھانے کی عادات کو صحت مند بنایا جائے تاکہ بچوں کی جسمانی توانائی بحال رہے۔
آخری اور چھٹا طریقہ یہ ہے کہ والدین خود بھی پرسکون رہیں کیونکہ بچوں کا رویہ اکثر والدین کے مزاج سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔ اگر والدین اسکول کے آغاز پر پراعتماد اور پرسکون ہوں گے تو بچے بھی اس تبدیلی کو خوش دلی سے قبول کریں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان چھ طریقوں پر منظم انداز میں عمل کیا جائے تو بچے نہ صرف اسکول کی روٹین میں جلدی ڈھل جائیں گے بلکہ تعلیمی میدان میں بھی بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ اس طرح اسکول کا آغاز کسی پریشانی کے بجائے ایک خوش گوار تجربہ بن جاتا ہے۔