LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی افریقہ میں اسلام مخالف پروپیگنڈا بمقابلہ زمینی حقائق

News Image
انٹرنیٹ پر بڑھتی ہوئی اسلام مخالف بیان بازی کے باوجود جنوبی افریقہ میں زمینی حقائق اور سماجی صورتحال بالکل مختلف اور پیچیدہ کہانی سناتی ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی پروپیگنڈے کا حقیقت پسندی سے موازنہ کرنے پر معاشرتی ہم آہنگی کے مثبت پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں سوشل میڈیا دنیا بھر میں معلومات کے ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے، وہیں یہ منفی پروپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد پھیلانے کا بھی ایک خطرناک پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں انٹرنیٹ پر اسلام مخالف بیان بازی اور آن لائن ردعمل میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا مقصد مختلف معاشروں میں منافرت پھیلانا ہے۔ تاہم، جنوبی افریقہ کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو آن لائن چلنے والی اس مہم اور زمینی حقائق کے درمیان زمین آسمان کا فرق پایا جاتا ہے جو کہ ایک بالکل مختلف اور حقیقت پسندانہ کہانی بیان کرتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں بعض عناصر کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف منفی تاثرات کو عام کرنے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے، لیکن جنوبی افریقہ کی روزمرہ کی زندگی میں مختلف مذاہب اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کے درمیان باہمی رواداری، امن اور تعاون کی فضا قائم ہے۔ زمینی سطح پر عام لوگوں کے تعلقات آن لائن نفرت آمیز مہمات سے یکسر مختلف ہیں۔ ملک کے اندر مختلف کمیونٹیز ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہتی ہیں اور روزمرہ کے امور میں ایک دوسرے کا احترام کرتی ہیں۔ سوشل میڈیا پر نظر آنے والا غصہ اور منافرت کا طوفان دراصل زمینی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا بلکہ یہ مخصوص ڈیجیٹل حلقوں کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آن لائن پروپیگنڈے کو حقیقت سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جنوبی افریقہ کا معاشرہ تنوع اور رواداری کی بہترین مثال پیش کرتا ہے۔ اس صورتحال سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے منفی رجحانات کو زمینی حقائق بنا کر پیش کرنا معاشرتی حقیقتوں کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ جنوبی افریقہ میں مسلمانوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے مابین تعلقات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوامی سطح پر رواداری اور بھائی چارہ اب بھی مضبوطی سے قائم ہے، اور آن لائن نفرت انگیز عناصر زمینی سطح پر اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں ناکام رہے ہیں۔