World
ایران کا آبنائے ہرمز فوری کھولنے سے انکار، علاقائی صورتحال پر اہم خبر
ایرانی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز میں تمام نقل و حرکت پر مکمل نگرانی حاصل ہے۔ اس دوران فلسطین کے علاقے قصرا میں آباد کاروں کے محاصرے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
تہران کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ عالمی اور خطے کی کشیدہ صورتحال کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے کسی قسم کی جلدی میں نہیں ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ پر ملک کی سکیورٹی فورسز کا مکمل کنٹرول اور نگرانی موجود ہے، اور تمام تر نقل و حرکت کو انتہائی باریک بینی سے جانچا جا رہا ہے۔ اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے دوران بین الاقوامی منڈیوں اور شپنگ انڈسٹری میں مزید ہلچل مچا دی ہے۔
دوسری جانب، خطے میں جاری دیگر تنازعات کے دوران یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قصرا میں اسرائیلی آباد کاروں نے محاصرہ کر رکھا ہے، جس سے مقامی فلسطینی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ عالمی سطح پر ان دونوں محاذوں پر پیدا ہونے والی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے ایک انتہائی اہم رگ کی حیثیت رکھتی ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ ایرانی افواج آبنائے ہرمز میں ہر قسم کی سمندری اور عسکری نقل و حرکت پر 'مکمل نگاہ' رکھے ہوئے ہیں اور ملکی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق ہی فیصلے کیے جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ تہران کا یہ روڈ میپ خطے میں جاری سفارتی اور عسکری رسہ کشی کا حصہ ہے، جس کا مقصد عالمی طاقتوں کو دباؤ میں لانا ہے۔ آنے والے دنوں میں اسٹریٹجک امور کے ماہرین اس صورتحال کے مزید سنگین اثرات کی پیشگوئی کر رہے ہیں کیونکہ فریقین کی جانب سے لچک کے آثار فی الحال کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔