World
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا صحافیوں پر حملہ
مقبوضہ مغربی کنارے میں نقاب پوش اسرائیلی آباد کاروں کے پرتشدد حملے کے نتیجے میں امریکی میڈیا نیٹ ورک این بی سی کی نیوز ٹیم اور ایک فلسطینی خاتون زخمی ہو گئیں۔ بین الاقوامی برادری اور ذرائع ابلاغ کے اداروں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں نقاب پوش اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے صحافیوں اور مقامی شہریوں کو نشانہ بنانے کا ایک اور تشویشناک واقعہ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، معروف امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک این بی سی سے وابستہ ایک بین الاقوامی خبر رساں ٹیم پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ علاقے میں پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہی تھی۔ اس پرتشدد کارروائی کے نتیجے میں نیوز ٹیم کے اراکین کے علاوہ ایک مقامی فلسطینی خاتون بھی زخمی ہو گئی ہیں۔ واقعہ کے فوراً بعد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے اور صحافیوں کی سکیورٹی پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حملے کی تفصیلات کے مطابق، نقاب پوش افراد نے اچانک خبر رساں ٹیم کو گھیر لیا اور ان پر حملہ کر دیا۔ اس دوران وہاں موجود فلسطینی خاتون بھی اس تشدد کی زد میں آ کر زخمی ہوئیں۔ زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔ مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کے پرتشدد واقعات میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے انسانی حقوق کی تنظیمیں اور میڈیا کے ادارے سخت پریشان ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور صحافتی تنظیموں نے اس واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنازعات والے علاقوں میں رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنا عالمی اصولوں کے تحت مقامی حکام کی ذمہ داری ہے۔ ماضی میں بھی اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے صحافیوں اور فلسطینی شہریوں کو ہراساں کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم اس تازہ واقعے نے ایک بار پھر خطے میں میڈیا کی آزادی اور سلامتی کے بحران کو اجاگر کر دیا ہے۔
مظلوم فلسطینیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے والے صحافیوں کو اس قسم کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ اس واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے پرتشدد واقعات کو روکا جا سکے اور صحافی بغیر کسی خوف کے اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔