LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کی سخت پابندیوں سے ایرانی معیشت مشکلات کا شکار

News Image
امریکہ کی جانب سے سخت معاشی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایران کی درآمدات اور برآمدات میں ایک تہائی کمی واقع ہوئی ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود سفارت کاری جاری رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔
امریکہ کی جانب سے سخت معاشی پابندیوں میں اضافے اور جنگ کے جاری رہنے کے باعث ایرانی معیشت پر انتہائی شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ ایرانی قیادت نے بھی اعتراف کیا ہے کہ جنگ اور پابندیوں نے ملکی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان کے مطابق امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کی وجہ سے ملک کی غیر ملکی تجارت اور درآمدات و برآمدات میں تقریباََ ایک تہائی کمی واقع ہو چکی ہے۔ اس صورتحال میں مہنگائی کی شرح میں بھی ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے جو گزشتہ ماہ بڑھ کر چھیاسٹھ فیصد تک جا پہنچی۔ ایرانی حکام کے مطابق اس معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے حکومت افراط زر پر قابو پانے، مارکیٹ کا انتظام سنبھالنے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کر رہی ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن نے ایران پر مالیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات مزید تیز کر دیے ہیں اور دنیا بھر کے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات منقطع کر لیں ورنہ انہیں ثانوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی وزارتِ خزانہ نے مصر کے بنک مصر کو ایران کے ساتھ کاروبار کرنے پر پابندی کا نشانہ بنایا ہے اور اس کے متحدہ عرب امارات میں موجود برانچوں کو ڈالر کے لین دین سے روکنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس کے علاوہ ہانگ کانگ میں قائم ایک ادارے اور ایران کے بنک ملی سے منسلک ایک شخص کو بھی پابندیوں کی زد میں لایا گیا ہے۔ تاہم، امریکی حکومت نے چین اور بھارت جیسے بڑے تجارتی شراکت داروں کے خلاف براہ راست سزاؤں سے گریز کیا ہے تاکہ عالمی معیشت کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔ ان تمام معاشی مشکلات کے باوجود تہران نے کسی قسم کے پسپائی کے اشارے نہیں دیے ہیں۔ ایران کا موقف ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے ڈٹے رہنے کے ساتھ ساتھ سفارت کاری کے دروازے بھی کھلے رکھے گا اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق دفاع اور سفارت کاری ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے دو لازم و ملزوم ستون ہیں۔ قطری وزیر اعظم کی تہران آمد اور خطے کے دیگر ممالک کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں تاکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن کو محفوظ بنایا جا سکے اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال ہو سکے۔