World
امریکہ ایران جنگ: فوجی خاندانوں کے جذباتی مسائل اور مشکلات
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگ کے چھ ماہ مکمل ہونے پر امریکی فوجی اہلکاروں کے خاندان شدید جذباتی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس طویل محاذ آرائی نے فوجی خاندانوں کی روزمرہ زندگی اور ذہنی سکون کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور معرکہ آرائی کو چھ ماہ گزرنے کے بعد، امریکی فوجیوں کے اہل خانہ ایک انتہائی مشکل اور جذباتی طور پر تھکا دینے والے دور سے گزر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں کے پیاروں کا کہنا ہے کہ اس طویل تنازع نے ان کی روزمرہ زندگی کو پوری طرح بدل کر رکھ دیا ہے اور وہ ایک مستقل غیر یقینی کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
محاذ جنگ پر موجود اہلکاروں کے عزیز و اقارب کے مطابق، ہر لمحہ آنے والی نئی خبریں اور سکیورٹی خدشات ان کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ خاندان کے افراد بالخصوص بچوں اور شریکِ حیات کے لیے اپنے پیاروں کی سلامتی کی فکر کرنا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس صورتحال کو ماہرین نے جذباتی رولر کوسٹر قرار دیا ہے جہاں امید اور خوف کے ملے جلے جذبات ہر وقت غالب رہتے ہیں۔
امریکہ کے مختلف فوجی اڈوں اور چھاؤنیوں کے قریب رہنے والے خاندانوں کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر فراہم کی جانے والی نفسیاتی معاونت کے باوجود یہ چھ ماہ ان کی زندگی کے طویل ترین مہینے ثابت ہوئے ہیں۔ جنگی حالات کے باعث پیدا ہونے والی اس کشیدگی نے نہ صرف فوجیوں بلکہ ان کے گھر والوں کی ذہنی صحت کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے، اور ہر گزرتے دن کے ساتھ خدشات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔