Pakistan
پمز ہسپتال آتشزدگی: انکوائری کمیٹی کی 10 افسران کو ہٹانے کی سفارش
اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقاتی کمیٹی نے غفلت کے مرتکب 10 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کر دی ہے۔ اس کارروائی کا مقصد ہسپتال کے نظام میں بہتری لانا اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
اسلام آباد کے وفاقی دارالحکومت میں واقع پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں حال ہی میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کے بعد قائم کی جانے والی انکوائری کمیٹی نے اپنی جامع رپورٹ حتمی شکل دے دی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی نے اس خطرناک واقعے کی ذمہ داری متعلقہ محکمے کے افسران پر عائد کرتے ہوئے 10 افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سخت سفارش کی ہے۔ کمیٹی کی اس رپورٹ میں ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے حفاظتی انتظامات میں غفلت اور لاپرواہی کو نمایاں کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ انکوائری کمیٹی اعلیٰ حکام کی ہدایت پر تشکیل دی گئی تھی تاکہ حادثے کے اصل محرکات کا پتہ لگایا جا سکے اور ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔ کمیٹی نے اپنی تحقیقات کے دوران مختلف شعبوں کے عملے سے پوچھ گچھ کی اور شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر بروقت حفاظتی اقدامات کیے جاتے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فائر فائٹنگ کا نظام درست حالت میں ہوتا، تو اس بڑے نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
حالیہ سفارشات کے بعد وزارت صحت اور متعلقہ حکام کی جانب سے ان افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کا آغاز کیے جانے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف مجرمانہ غفلت برتنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے بلکہ پمز ہسپتال جیسے اہم طبی ادارے میں مریضوں اور عملے کی حفاظت کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔ عوامی حلقوں اور سول سوسائٹی نے بھی اس انکوائری رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ غفلت کے مرتکب تمام افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔