Pakistan
سندھ طاس معاہدہ: سیاسی تنازعات کو دور رکھنے پر زور
پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے سفارتی سطح پر بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی دریاؤں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔
پاکستان کے اعلیٰ حکام اور ماہرینِ معاشیات و قانون نے اس بات پر شدید زور دیا ہے کہ دوطرفہ سیاسی تنازعات کو تاریخی سندھ طاس معاہدے پر اثر انداز نہیں ہونے دینا چاہیے۔ واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے حال ہی میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے اصولوں کی مکمل پاسداری کرنی چاہیے اور یکطرفہ اقدامات سے گریز کرنا لازمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پانی جیسے بنیادی انسانی اور معاشی وسائل کو سیاست یا تنازعات کی نذر کرنا خطے کے کروڑوں عوام کے حقوق کے منافی ہے۔ اسلام آباد میں جاری ہونے والے بیانات میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ پانی کے منصفانہ اور پائیدار انتظام پر زور دیا ہے اور کسی بھی ایسے اقدام کی مخالفت کی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان آبی وسائل کے باہمی تعاون کو نقصان پہنچائے۔ دوسری جانب، بھارت کے کچھ حلقوں کی طرف سے سکیورٹی خدکات کے نام پر اس معاہدے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جن پر پاکستان نے بارہا عالمی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار ہوتا ہے اور اسے برقرار رکھنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ اگر اس معاہدے کو سیاسی چپقلش کی بھینٹ چڑھا دیا گیا تو اس کے خطے کی زرعی معیشت اور ماحولیات پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی برادری اور ثالثی عدالتوں کو بھی اس صورتحال کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے تاکہ بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور پانی کے بہاؤ کو سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرنے سے روکا جا سکے۔