Politics
پی ٹی آئی کی 29 اگست کی تحریک کے لیے تیاریاں تیز
پاکستان تحریک انصاف نے اکیسویں صدی کے چیلنجز سے نمٹنے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے وزراء اور رہنماؤں کی جانب سے کارکنان کو متحرک کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔
اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک بھر میں سیاسی ہلچل اس وقت عروج پر پہنچ گئی جب پاکستان تحریک انصاف نے 29 اگست کی سڑکوں پر احتجاجی تحریک کے سلسلے میں اپنی رابطہ مہم کو مزید تیز کر دیا۔ پارٹی قیادت کی جانب سے کارکنوں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ عوامی سطح پر رابطے بڑھائیں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ اس سلسلے میں صوبائی سطح پر اہم اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں جن میں حامیوں کو منظم کرنے کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اور دیگر اہم رہنماؤں نے پارٹی ورکرز اور عہدیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ آنے والے مہینوں میں متوقع سیاسی سرگرمیوں خاص طور پر ستمبر کے آخر میں ہونے والی بڑی ریلیوں اور طویل مارچ کے لیے مکمل تیاری رکھیں۔ قائدین کا ماننا ہے کہ عوامی رابطہ مہم سے نہ صرف سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوگا بلکہ عامتہ الناس کو بھی ملکی صورتحال سے آگاہ کرنے میں مدد ملے گی۔ مختلف علاقوں میں ہونے والے جلسے جلوسوں میں عوام کی کثیر تعداد کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اس نئی حکمت عملی کے نتیجے میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور وہ اس حق کو استعمال کرنے سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور قیادت کے اگلے احکامات کا انتظار کریں۔
سیاسی میدان میں یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مہنگائی، معاشی بحران اور دیگر اہم قومی امور پر بحث جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے اس اقدام سے آنے والے دنوں میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا قوی امکان ہے، جس پر تمام مکاتب فکر کی گہری نظر ہے۔