LIVE
Loading Breaking News...

بایوسیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے ماہرین کا تعاون مضبوط بنانے پر زور

News Image
بین الاقوامی ماہرین نے بائیو سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے موثر انداز میں نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید مربوط بنانے کی اشد ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیا کو درپیش ممکنہ حیاتیاتی خطرات سے بچنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔
عالمی سطح پر بایوسیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ماہرین اور محققین نے آپس کے رابطوں اور باہمی تعاون کو مزید مربوط بنانے کی اپیل کی ہے۔ موجودہ دور میں جس تیزی سے حیاتیاتی خطرات ابھر رہے ہیں، اس کے پیش نظر کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاریوں کو فول پروف بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں کام کرنے والے اداروں کے درمیان اگر مؤثر معلومات کا تبادلہ نہ ہو تو کسی بھی ممکنہ بحران پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے منعقدہ مختلف سائنسی مباحثوں اور فورمز پر اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال اور قدرتی عوامل کی وجہ سے بایوسیکیورٹی کے مسائل سنگین تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر پالیسی سازوں کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر ایک مشترکہ اور جامع فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔ اس فریم ورک کے تحت نہ صرف لیبارٹریوں کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا بلکہ سرحد پار طبی اور سائنسی امداد کے عمل کو بھی زیادہ شفاف اور تیز رفتار بنایا جائے گا۔ حکومتوں اور عالمی اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ بایوسیکیورٹی کے شعبے میں تحقیق کے لیے فنڈز میں اضافہ کریں اور نئی نسل کے سائنسدانوں کو اس حساس موضوع پر تربیت فراہم کریں۔ تربیت یافتہ عملہ اور جدید آلات کی موجودگی ہی کسی بھی ناگہانی آفت یا وبائی خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں انسانیت کو شدید نوعیت کے بائیو خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لیے اجتماعی کوششوں کا آغاز آج ہی کرنا ہوگا۔