Technology
واٹس ایپ کے ذریعے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی فنڈنگ کا بڑا انکشاف
برطانیہ اور دنیا بھر میں واٹس ایپ گروپس کے ذریعے نقد رقم کی غیر قانونی منتقلی کا مکروہ دھندہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ اس خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے جرائم اور انتہا پسندی کے لیے بغیر کسی دستاویز یا ریکارڈ کے فنڈز فراہم کیے جا رہے تھے۔
جدید ڈیجیٹل دور میں جہاں میسجنگ ایپلیکیشنز نے مواصلات کو انتہائی آسان بنا دیا ہے، وہیں ان کے تاریک پہلو بھی تیزی سے سامنے آنے لگے ہیں۔ حال ہی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق مواصلاتی ایپ واٹس ایپ کے مختلف گروپ چیٹس کو دنیا بھر میں لاکھوں روپے کی غیر قانونی نقد ترسیل اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس خطرناک نیٹ ورک کے ذریعے برطانیہ اور دیگر ممالک میں کروڑوں روپے کے فنڈز بغیر کسی سرکاری یا کاغذی ریکارڈ کے منتقل کیے گئے۔ سیکیورٹی ماہرین کے مطابق مجرمانہ عناصر اور انتہا پسند تنظیمیں اس پلیٹ فارم کا استعمال کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کے لیے خاموشی سے مالی معاونت حاصل کر رہی ہیں۔ واٹس ایپ پر قائم کیے جانے والے ان خفیہ گروپس میں مالی لین دین کے پیغامات اور ہدایات کا تبادلہ کیا جاتا ہے، جنہیں بعد میں ڈیلیٹ کر دیا جاتا ہے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کوئی سراغ نہ مل سکے۔ اس قسم کے نقد لین دین میں کسی قسم کا بینک ٹریل یا کاغذی ثبوت نہیں چھوڑا جاتا، جس کی وجہ سے تفتیشی اداروں کے لیے مجرموں تک پہنچنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال دنیا بھر کے سائبر سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ انکرپٹڈ میسجنگ سسٹمز کی رازداری کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ٹیک کمپنیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان قریبی تعاون کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکا جا سکے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جرائم کے لیے استعمال ہونے سے بچایا جا سکے۔