LIVE
Loading Breaking News...

تاریخی جارجیئن حویلی میں سستی رہائش کا انوکھا اشتراکی منصوبہ

News Image
برطانیہ میں ایک انوکھے اشتراکی رہائشی منصوبے کے تحت افراد نے پندرہ ایکڑ پر محیط تاریخی عمارت کو رہائش کے لیے اپنا لیا ہے۔ اس شاندار تاریخی حویلی میں رہنے کی لاگت عام دو کمروں کے گھر جتنی بنتی ہے۔
برطانیہ میں مکانات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے دوران ایک انتہائی دلچسپ اور کامیاب اشتراکی رہائشی منصوبہ سامنے آیا ہے جہاں لوگوں نے روایتی رہائش کے مقابلے میں ایک انوکھا راستہ اپنایا ہے۔ اس منصوبے کے تحت درجنوں افراد نے مل کر پندرہ ایکڑ پر پھیلی ہوئی ایک انتہائی شاندار اور تاریخی جارجیئن حویلی کو اپنا گھر بنا لیا ہے۔ اس تاریخی عمارت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں رہائش اختیار کرنے والے افراد کو اتنی بڑی اور پُرشکوہ عمارت میں رہنے کے لیے اتنی ہی رقم خرچ کرنی پڑتی ہے جتنی عام طور پر ایک عام دو کمروں کے چھوٹے گھر کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس مشترکہ طرزِ رہائش نے نہ صرف مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا ہے بلکہ لوگوں کو ایک بہتر اور پرسکون ماحول بھی فراہم کیا ہے۔ اس عمارت کو گریڈ ٹو لسٹڈ (Grade II listed) کا تاریخی درجہ بھی حاصل ہے، جس کا مطلب ہے کہ اس کی تعمیر اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی اس کمیونٹی کی ذمہ داری ہے۔ یہاں رہنے والے تمام افراد نہ صرف حویلی کی دیکھ بھال کے اخراجات آپس میں تقسیم کرتے ہیں بلکہ اس کے وسیع و عریض باغات اور پندرہ ایکڑ پر پھیلے ہوئے سبزہ زاروں سے بھی اجتماعی طور پر لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس اشتراکی طرزِ زندگی نے آج کے دور میں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے جہاں سب لوگ باہم تعاون اور میل جول کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ماڈل ان لوگوں کے لیے ایک بہترین مثال بن چکا ہے جو بڑے اور مہنگے گھر خریدنے یا کرائے پر لینے کے متحمل نہیں ہوسکتے لیکن پرتعیش اور کھلے ماحول میں رہنے کے خواہشمند ہیں۔ اس انوکھے اقدام کی کامیابی کے بعد اب دیگر علاقوں میں بھی ایسے اشتراکی منصوبوں کے حوالے سے سوچ بچار کی جارہی ہے تاکہ رہائشی بحران کا کوئی پائیدار حل نکالا جا سکے۔