World
میانمار کی فوج کی واپسی: فضائی حملے اور چینی حمایت کا اثر
میانمار میں باغی جنگجو اہم قصبوں پر سے کنٹرول کھو رہے ہیں کیونکہ فوجی حکومت فضائی حملوں، جبری بھرتی اور چین کی مدد سے دوبارہ مضبوط ہو رہی ہے۔ تنازعے کی یہ نئی لہر ملک کے اندرونی حالات کو ایک بار پھر تبدیل کر رہی ہے۔
میانمار میں جاری خانہ جنگی کے دوران ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب فوج نے باغی جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی کرتے ہوئے کئی اہم قصبوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنا شروع کر دیا۔ عسکری ذرائع کے مطابق، ملک کی حکمران فوج حالیہ مہینو ں میں ہونے والے نقصانات کے بعد اب جارحانہ انداز میں پیش قدمی کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں باغیوں کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ اس عسکری بحالی کے پیچھے کئی اہم عوامل کارفرما ہیں جن میں شدید اور مسلسل فضائی حملے، نئے جوانوں کی جبری بھرتی اور مبینہ طور پر بیرونی طاقتوں بالخصوص چین کی حمایت شامل ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ میانمار کی فوج نے اپنی حکمت عملی میں بڑی تبدیلیاں کی ہیں۔ زمینی فوج کی کمی کو پورا کرنے کے لیے جبری بھرتی کا قانون سختی سے نافذ کیا گیا ہے جس کے تحت ہزاروں نئے جوانوں کو محاذ جنگ پر بھیجا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، فضائیہ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے باغیوں کے زیر تسلط علاقوں پر شدید بمباری کی جا رہی ہے، جس سے باغی تنظیموں کو رسد اور مواصلاتی رابطے برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فضائی برتری نے فوج کو وہ طاقت فراہم کی ہے جو زمینی جنگ میں پچھلے کچھ عرصے سے کمزور پڑ گئی تھی۔
دوسری جانب، خطے میں چین کا کردار بھی اس صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مبصرین کے مطابق، بیجنگ کی جانب سے فوجی حکومت کو سفارتی اور ممکنہ طور پر دیگر ذرائع سے ملنے والی مدد نے جنگ کے پانسے کو پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ چین سرحدی علاقوں میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور اس نے مبینہ طور پر صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے حکمران جنتا کے ساتھ روابط مضبوط کیے ہیں، جس سے فوج کو اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کا موقع ملا ہے۔
اگرچہ باغی تنظیموں نے پچھلے سالوں میں شاندار فتوحات حاصل کی تھیں اور فوج کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا تھا، لیکن موجودہ حالات ظاہر کرتے ہیں کہ میانمار کا تنازعہ ابھی طویل اور پیچیدہ ہونے والا ہے۔ فوج کی اس اچانک پیش قدمی نے ملک میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے جبکہ عام شہریوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا باغی اتحاد اس نئے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی نئی حکمت عملی تیار کرتا ہے یا نہیں۔