World
امریکہ کی جانب سے افغان شہریوں کی وسطی افریقہ جلاوطنی پر تشویش
امریکہ میں قانونی تحفظ حاصل کرنے والے افغان شہری کے رشتہ دار کو درجنوں دیگر افراد کے ساتھ جنگ زدہ وسطی افریقہ جلاوطن کر دیا گیا ہے۔ اس غیر متوقع اقدام پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کی جانب سے حال ہی میں ایک ایسا قدم اٹھایا گیا ہے جس نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور تارکین وطن کے حقوق کے کارکنوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق، امریکہ میں باقاعدہ قانونی تحفظ حاصل کرنے والے ایک افغان شہری کے رشتہ دار کو، جس کے خاندان نے ماضی میں افغان جنگ کے دوران امریکی فوج کی بھرپور مدد کی تھی، درجنوں دیگر افراد کے ہمراہ وسطی افریقہ کے جنگ زدہ خطے میں جلاوطن کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن انتظامیہ اور تارکین وطن کے امور پر نظر رکھنے والے اداروں کے درمیان پہلے ہی پالیسیوں پر بحث جاری ہے۔
متاثرہ افغان خاندان کے مطابق، ان کے عزیز نے انتہائی مشکل حالات میں امریکی فوج کی معاونت کی تھی جس کی پاداش میں انہیں اپنی جان کے خطرات کے پیش نظر افغانستان چھوڑنا پڑا تھا۔ امریکہ میں پناہ اور تحفظ کے حصول کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ انہیں اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جائے گا، لیکن حالیہ جلاوطنی کے فیصلے نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جن افراد کو وسطی افریقہ بھیجا گیا ہے، انہیں وہاں شدید سکیورٹی خدزات اور بنیادی سہولیات کی قلت کا سامنا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا اور پناہ گزینوں کے حقوق کی تنظیموں نے اس واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن مقامی افراد اور ان کے خاندانوں نے بحران کے دوران امریکی مفادات کا تحفظ کیا اور فوجی آپریشنز میں ساتھ دیا، ان کے ساتھ اس قسم کا سلوک اخلاقی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ تنظیموں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری طور پر نوٹس لے اور جلاوطن کیے گئے افراد کی فوری واپسی اور حفاظت کو یقینی بنائے۔
دوسری جانب، امریکی حکام کی طرف سے اس جلاوطنی کی وجوہات کے حوالے سے تاحال کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے، تاہم امیگریشن کے نئے قوانین کے نفاذ کو اس کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعہ نے امریکہ میں مقیم ان ہزاروں افغان شہریوں کے اندر خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی ہے جو اب بھی مستقل قانونی حیثیت یا اپنے دیگر رشتہ داروں کی امریکہ منتقلی کے منتظر ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے امریکہ کی سفارتی ساکھ اور مقامی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔