LIVE
Loading Breaking News...

پی ٹی اے کی تمام ٹیلی کام کمپنیوں کے لیے یکساں سم پالیسی کی ہدایت

News Image
پی ٹی اے نے زون اور ٹیلی نار سمیت تمام سیلولر کمپنیوں کو سمز کی میعاد اور ری چارج کی رقم سے متعلق یکساں پالیسی نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ صارفین کی جانب سے بیلنس ضبطگی اور عدم منتقلی کی شکایات پر کیا گیا ہے جو یکم اکتوبر سے نافذ ہوگا۔
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر کی تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سموں کے ایکسپائر ہونے اور ری چارج کی رقم کے حوالے سے ایک یکساں پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کریں۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ریگولیٹر کو معلوم ہوا کہ کچھ کمپنیاں طے شدہ شرائط و ضوابط پر عمل نہیں کر رہی تھیں۔ پی ٹی اے کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے مطابق، صارفین کی جانب سے زون اور ٹیلی نار پاکستان (جسے اب پی ٹی سی ایل نے حاصل کر لیا ہے) کے خلاف متعدد شکایات درج کروائی گئی تھیں جن میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ پری پیڈ بیلنس کو سم کی پوری فعال زندگی کے دوران کارآمد رہنا چاہیے۔ صارفین کی شکایت تھی کہ یہ کمپنیاں سم کے فعال دورانیے میں بھی ایک مخصوص بیلنس برقرار رکھنے کا مطالبہ کرتی ہیں اور ایسا نہ کرنے پر سمز بلاک کر دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ دوسرا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ اگلے ری چارج پر پچھلا بیلنس منتقل یا کیری اوور نہیں کیا جاتا تھا جس سے عام صارفین کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ پی ٹی اے کے اس نئے حکم کے تحت تمام ٹیلی کام کمپنیوں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ری چارج یا بیلنس کی رقم کے لیے کم از کم 180 دن کی میعاد کی پالیسی لاگو کریں۔ ریگولیٹر کے مطابق، ٹیلی کام کنزیومرز پروٹیکشن ریگولیشنز کے تحت سم کے فعال دورانیے میں اگر دوبارہ ری چارج کیا جائے تو کوئی بھی ایکسپائر شدہ بیلنس خود بخود بحال ہو جائے گا اور قابلِ استعمال بنے گا۔ ٹیلی کام کمپنیاں اس فیصلے پر عمل درآمد کے دوران کسی بھی غیر منصفانه تجارتی عمل کا حصہ نہیں بنیں گی اور یہ نئی ہدایات یکم اکتوبر سے باضابطہ طور پر نافذ العمل ہوں گی۔ واضح رہے کہ پاکستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں تقریباً 97 فیصد صارفین پری پیڈ کنکشن استعمال کرتے ہیں، اس لیے بیلنس کی ضبطگی اور عدم ایڈجسٹمنٹ کے معاملات براہِ راست عام آدمی اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو متاثر کرتے ہیں۔ پی ٹی اے کی اس مداخلت سے لاکھوں موبائل صارفین کو ریلیف ملنے کی توقع ہے جو طویل عرصے سے اس مسئلے پر پریشان تھے۔