Pakistan
کراچی میں طویل لوڈشیڈنگ: انسانی حقوق کے کارکنوں کی کے الیکٹرک کے خلاف پریس کانفرنس
کراچی کے پسماندہ اور صنعتی علاقوں میں طویل بجلی کی بندش نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ہے، جس پر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر کڑے سوالات اٹھائے ہیں۔ مقررین کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ اور شدید لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بچوں کی تعلیم، روزمرہ کے امور اور محنت کشوں کی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
کراچی کے حقوق کے کارکنوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شہرِ قائد کے کم آمدنی والے علاقوں میں جاری طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس حوالے سے کراچی پریس کلب میں سول سوسائٹی کلیکٹیو فار کلین انرجی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران مقررین کا کہنا تھا کہ بجلی کی طویل بندش نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی کو انتہائی مشکل بنا دیا ہے، جس سے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے، دھلائی اور روزمرہ کے امورِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگست کے آخری ہفتے کے دوران لیاری، پرانے شہر کے علاقوں، بلدیہ، اورنگی، کورنگی، سائٹ اور سہراب گوٹھ میں شدید احتجاج اور ٹریفک کی بندش کے واقعات بھی سامنے آئے جہاں مکینوں نے کے الیکٹرک سے طویل بندش کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے وابستہ قاضی خضر نے مزدور طبقے کے علاقوں پر لوڈشیڈنگ کے منفی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طویل بندش نے شہریوں کی ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بجلی کوئی عیش و آرام کی چیز نہیں بلکہ بنیادی ضرورت ہے۔ اسی طرح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پلر) کے عباس حیدر نے بتایا کہ بلدیہ، سائٹ اور کورنگی جیسے صنعتی علاقوں کے رہائشی علاقوں میں ہونے والی لوڈشیڈنگ سے گھریلو صنعتوں اور غیر رسمی مزدوروں کی کارکردگی شدید متاثر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں کام کے دوران حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر طاہر حسن خان نے کے الیکٹرک کی نجکاری کے فوائد پر سوال اٹھایا اور کہا کہ کمپنی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
لیاری سے تعلق رکھنے والی سماجی کارکن نجمہ مہیشواری نے خواتین کو درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ طویل لوڈشیڈنگ اور پانی کی عدم دستیابی کا سب سے بڑا بوجھ خواتین کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پانی نہ ہونے کے باعث گھروں کی صفائی اور بچوں کی دیکھ بھال میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس سے صحت کے مسائل بھی جنم لے رہے ہیں۔ دی نالج فورم کی زینیا شوکت کا کہنا تھا کہ اس وقت بجلی کے بحران پر ہونے والی بحث کو بجلی چوری اور ریکوری تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ اصل ذمہ داری یوٹیلیٹی کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے نیپرا سے مطالبہ کیا کہ وہ فیڈر کی سطح پر ہونے والی غیر قانونی لوڈشیڈنگ کا نوٹس لے اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔