Pakistan
خضدار قتل کیس میں بڑی پیشرفت، چھ ملزمان گرفتار
پولیس نے خضدار کے علاقے انجیرہ میں انٹیلی جنس بیسڈ چھاپوں کے دوران چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، منشیات اور دو گاڑیاں بھی برآمد کی گئیں۔
کوئٹہ اور خضدار سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، پولیس نے ضلع خضدار کے علاقے انجیرہ میں مختلف مقامات پر چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے قتل کے ایک اہم مقدمے میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ یہ کارروائیاں ایک حساس سیکیورٹی ایجنسی کی جانب سے فراہم کردہ مصدقہ معلومات کی بنیاد پر عمل میں لائی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق یہ گرفتاریاں ممتاز شخصیت کے والد کے قتل کے واقعے کی تفتیش کے سلسلے میں کی گئی ہیں، جس نے علاقے میں کافی سنسنی پھیلا رکھی تھی۔
ترجمان پولیس کے مطابق چھاپوں کے دوران ملزمان کے قبضے سے ایک بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ، گولہ بارود، منشیات اور دو مشکوک گاڑیاں بھی برآمد کی گئی ہیں۔ ڈی آئی جی قلات رینج وزیر خان نصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زیر حراست ملزمان سے قتل اور دیگر سنگین جرائم میں ان کے ممکنہ ملوث ہونے کے حوالے سے سخت تفتیش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس کیس کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے تاکہ واقعے کو منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے اور متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
تاہم، پولیس حکام نے انکشاف کیا ہے کہ اس قتل کے مقدمے کا مرکزی نامزد ملزم ظہور جمالدینی تاحال مفرور ہے اور قانون کی گرفت سے باہر ہے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ پولیس کی ٹیمیں مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے چھاپے مار رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملزم کے سابقہ کریمینل ریکارڈ اور ماضی میں عدالتوں سے سزاؤں کا ریکارڈ بھی جمع کیا جا رہا ہے تاکہ جاری تفتیش کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔