LIVE
Loading Breaking News...

ڈیجیٹل پاپولزم اور حکمرانی: پاکستان کی سیاسی صورتحال پر تجزیہ

News Image
سیاسی اور معاشی تجزیوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ انتخابی مہم کے لیے تیار کردہ ڈیجیٹل اوزار اکثر موثر حکمرانی کے تقاضوں سے متصادم ہوتے ہیں۔ پاکستان میں حکومتی امور چلانے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے شور شرابے سے الگ ہو کر طویل المدتی اور سنجیدہ پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
سیاسی ابلاغ کی تاریخ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ انتخابی مہم اور موبلائزیشن کے لیے بنائے گئے اوزار اکثر موثر گورننس کے لیے انتہائی غیر موزوں ثابت ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا 2018 سے اپریل 2022 تک اقتدار کا دورانیہ ایک واضح کیس اسٹڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک طاقتور ڈیجیٹل مہم کے ذریعے اقتدار میں آنے والی اس جماعت نے یہ ثابت کیا کہ سوشل میڈیا پر مشغولیت پیدا کرنے والے عناصر کس طرح موثر حکمرانی کے تقاضوں کے برعکس کام کرتے ہیں۔ دیگر سیاسی جماعتوں کو بھی اس دور سے یہ اہم سبق سیکھنا چاہیے کہ ڈیجیٹل دور میں بھی حکومتوں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے اثرات سے جان بچھانی چاہیے یا کم از کم ان تک اپنی رسائی کو محدود رکھنا چاہیے۔ ڈیجیٹل پاپولزم کی حرکیات کو سمجھنا اس صورتحال میں انتہائی ضروری ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز غصے، فوری جذباتی ردعمل اور آسان بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ جب کوئی حکومت اپنی کارکردگی جانچنے کے لیے انہی پلیٹ فارمز کو پیمانہ بنا لیتی ہے تو پالیسیاں عوامی فلاح کی بجائے ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کے تابع ہو جاتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی یہ رجحان دیکھا گیا جہاں اہم پالیسی تجاویز کو سوشل میڈیا کے دباؤ پر بار بار تبدیل کیا گیا یا ختم کر دیا گیا۔ احتساب اور انسداد بدعنوانی جیسے اہم امور کو بھی ڈیجیٹل تماشا بنا دیا گیا، جس سے طویل المدتی اصلاحات متاثر ہوئیں۔ جرمنی کے مشہور فلسفی جورگن ہابرماس کے مطابق، پبلک اسفیئر ایک ایسی جگہ ہے جہاں عقلی بحث و تمحیص سے جمہوری اتفاق رائے پیدا ہوتا ہے۔ لیکن موجودہ ڈیجیٹل جگہیں اس نظریے کی الٹ تصویر پیش کرتی ہیں، جہاں پولرائزیشن اور گونج کے ایوان غالب ہیں۔ جب کوئی حکمران جماعت ایسے ماحول سے خود کو الگ نہیں کرتی تو سیاسی ابلاغ محاذ آرائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ کابینہ کے وزرا اور پالیسی ساز اہم وزارتیں سنبھالنے کے بجائے روزمرہ کے پارٹی بیانیے کے دفاع پر مامور نظر آتے ہیں، جس کے نتیجے میں پالیسی کے غیر مستحکم نتائج سامنے آتے ہیں۔ اقتدار سے بے دخلی کے بعد بھی ڈیجیٹل پاپولزم کے یہ اثرات پاکستانی سیاسی میدان میں بدستور موجود ہیں۔ موجودہ حکومت کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے ایک واضح پالیسی فریم ورک تشکیل دینا ہوگا جو انتظامی حکمت عملی کو روزمرہ کے آن لائن تنازعات سے محفوظ رکھے۔ حقیقی گورننس اور پالیسی سازی کے لیے بیوروکریٹک طریقہ کار، غور و فکر اور اتفاق رائے ناگزیر ہیں۔ حکمرانوں کی توجہ کو طویل المدتی معاشی، سیاسی اور سماجی اہداف پر مرکوز رکھنا ہوگا تاکہ عوامی انتظامیہ الگورتھمک میٹرکس کی بجائے حقیقی نتائج کی بنیاد پر آگے بڑھ سکے۔