LIVE
Loading Breaking News...

عالمی جیو پولیٹکس میں بھارت کا کم ہوتا ہوا کردار اور اہمیت

News Image
موجودہ عالمی منظر نامے میں دنیا کی سب سے زیادہ آبادی اور بڑی معیشت ہونے کے باوجود بھارت کی جیو پولیٹیکل اہمیت میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ اس تجزیے میں ان پانچ بنیادی وجوہات کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارت کا اثر و رسوخ متاثر ہوا ہے۔
بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور ساڑھے چار ٹریلین ڈالر سے زائد کی نامیاتی جی ڈی پی کے ساتھ دنیا کی چھٹی بڑی معیشت ہے، جس کا بڑا مارکیٹ شیئر دیگر ممالک کو اس کے ساتھ کاروبار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کے باوجود، موجودہ عالمی جیو پولیٹکس میں بھارت کی متناسب اہمیت کیوں کم ہو رہی ہے؟ اس حوالے سے پانچ اہم محرکات کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ سب سے پہلے، کئی دہائیوں تک بھارت چین کے عروج کو روکنے کے لیے امریکہ کا ترجیحی پارٹنر رہا ہے، مگر جیسے ہی امریکہ اور چین کے مابین اسٹریٹجک استحکام کی نئی راہیں کھلیں، بھارت کا کردار ایک اہم س estratégিক اتحادی سے گھٹ کر محض تجارتی اہمیت کے حامل ملک تک محدود ہو گیا۔ واشنگٹن کی جانب سے اپنی انڈو پیسیفک کمانڈ کو دوبارہ پیسیفک کمانڈ میں تبدیل کرنے سے بھی اس بات کی عکاسی ہوتی ہے۔ دوسرا بڑا موڑ مئی 2025 کے واقعات ہیں، جنہوں نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان کے خلاف غلط اندازوں کی بنیاد پر حملے کیے، تاہم پاکستان نے نہ صرف بھرپور جوابی کارروائی کی بلکہ بھارت کو امریکی قیادت کے ذریعے جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے نتیجے میں جہاں ایک طرف پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا گیا اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے طے پائے، وہیں بھارت کو مغربی ایشیا میں اپنے اسٹریٹجک خلا کا سامنا کرنا پڑا۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جنوبی ایشیا دنیا کا سب سے کم مربوط خطہ ہے کیونکہ بھارت کے اپنے بیشتر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں اور اس نے سارک کو بھی غیر فعال بنا رکھا ہے۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ بھارت خود کو گلوبل ساؤتھ کا چیمپئن ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں چین بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے منصوبوں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک میں کہیں آگے نکل چکا ہے۔ مزید برآں، امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت کی وجہ سے گلوبل ساؤتھ کے سامنے بھارت کی ترجیحات واضح ہو چکی ہیں۔ پانچواں اور اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام میں پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھا گیا، جبکہ بھارت نے اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو ترجیح دی اور غزہ کے معاملے پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ ان تمام عوامل نے مل کر بھارت کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے جبکہ پاکستان کے سفارتی اور عسکری پروفائل کو بلند کیا ہے۔