World
ایرانی سپریم لیڈر کا مسلم حکمرانوں کو اصل دشمن پہچاننے کا مشورہ
ایرانی سپریم لیڈر نے مسلم ممالک کے حکمرانوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کے اصل دشمن کی شناخت کریں۔ اس دوران تہران نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے شرائط کی فہرست تیار کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر نے خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی کشیدگی کے تناظر میں مسلم ممالک کے حکمرانوں کو ایک اہم اور دوٹوک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ مسلم امہ کے رہنماؤں کو اپنے اصل دشمن کو پہچاننا ہوگا تاکہ خطے کے مسائل کا پائیدار حل نکالا جا سکے اور بیرونی مداخلت کا مؤثر سدباب کیا جا سکے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سفارتی اور عسکری محاذ پر ہلچل جاری ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشیدگی میں کمی لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب تہران میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے شرائط کی ایک فہرست تیار کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس اہم گزرگاہ کے حوالے سے ایران کے اقدامات عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی لائن کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ قطر اور دیگر ثالثی ممالک کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے نئی سفارتی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں، جن سے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
اس تمام جغرافیائی سیاسی صورتحال کے درمیان عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہو کر 88 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہیں، جس کی بنیادی وجہ طلب اور رسد کے توازن میں تبدیلیاں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال ہے۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں سختی برقرار ہے، تاہم تہران کی جانب سے شرائط سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے اور تمام فریقین کی نظریں آئندہ کے لائحہ عمل پر مرکوز ہیں۔