Business
سوئس بینکنگ لابی چیف کا ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی پر انتباہ
سوئس بینکوں کے لابی گروپ کے نئے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی مالیاتی شعبے کو کمزور کر سکتی ہے۔ فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سخت قوانین مسابقت کو متاثر کرتے ہیں۔
سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کے آنے والے سربراہ نے مالیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ضرورت سے زیادہ ضابطہ بندی اور قوانین کے بوجھ سے ہوشیار رہیں۔ معتبر بین الاقوامی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، نو منتخب لابی چیف کا کہنا ہے کہ بہت زیادہ سختی اور پیچیدہ ضابطے سوئٹزرلینڈ کے مالیاتی نظام کی مسابقتی صلاحیت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بینکنگ کے شعبے میں شفافیت بہت اہم ہے، لیکن غیر ضروری طور پر سخت قوانین بینکاری کے فروغ میں بڑی رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سوئس بینکنگ انڈسٹری دنیا بھر میں اپنی نجی بینکاری اور مالیاتی خدمات کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ اور نئے قوانین نے بینکوں کے لیے کام کرنے کے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ نئے سربراہ نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی ہے کہ ضابطہ کاروں اور بینکوں کے درمیان متوازن اور تعاون پر مبنی تعلقات ہونے چاہئیں تاکہ معاشی ترقی اور استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق، سوئس بینکوں کو اس وقت بین الاقوامی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جن میں سخت ٹیکس قوانین اور تعمیل کے بڑھتے ہوئے اخراجات سرفہرست ہیں۔ اس تناظر میں لابی چیف کا یہ انتباہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے پالیسی سازوں کو ایک واضح پیغام ملتا ہے کہ وہ ضابطہ بندی کے عمل میں اعتدال سے کام لیں۔ اگر قوانین میں نرمی یا بہتری نہ لائی گئی تو سوئس بینک عالمی منڈی میں اپنی روایتی برتری کھو سکتے ہیں۔
امید کی جا رہی ہے کہ ان کی قیادت میں سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن حکومت اور ریگولیٹرز کے ساتھ مل کر ایک ایسے لائحہ عمل پر کام کرے گی جو کہ مالیاتی استحکام کے ساتھ ساتھ کاروبار دوست ماحول بھی فراہم کرے۔ اس سے نہ صرف سوئٹزرلینڈ کی معیشت کو استحکام ملے گا بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال رہے گا جو کہ طویل مدتی اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔