LIVE
Loading Breaking News...

امریکی مہنگائی پر مصنوعی ذہانت اور ٹیرف کے اثرات

News Image
امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے آلات اور چپ کی بڑھتی ہوئی مانگ کی وجہ سے ملکی مہنگائی میں صفر اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیرف اور اے آئی کی طلب دونوں مل کر مہنگائی کو قابو میں آنے نہیں دے رہے۔
امریکہ میں اقتصادی ماہرین کی جانب سے جاری کردہ حالیہ رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ہارڈویئر اور چپس کی شدید طلب نے امریکی معیشت میں مہنگائی کی شرح کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ صرف اے آئی ہارڈویئر کی مانگ کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں صفر اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک قابل ذکر شرح ہے۔ فیڈرل ریزرو بینک آف منیپولیس اور وال اسٹریٹ کے نامور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ درآمدی ٹیرف اور مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی اب براہ راست صارفین کی قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ درآمدات پر لگائے جانے والے ٹیرف کا اثر صارفین تک پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہوگا، تاہم اب یہ اثرات باقاعدہ طور پر مہنگائی کے اعداد و شمار میں نمایاں ہونے لگے ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 'چپ فلیشن' کا رجحان اب حقیقت بن چکا ہے، جہاں جدید ترین کمپیوٹر چپس اور اے آئی کے بنیادی ڈھانچے کی تیاری میں استعمال ہونے والے مواد کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے امریکی معیشت کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں کیونکہ قیمتوں کا یہ دباؤ توقع سے کہیں زیادہ طویل ثابت ہو رہا ہے۔ وال اسٹریٹ کے اسٹریٹجسٹس کا اس حوالے سے ماننا ہے کہ ٹیرف اور مصنوعی ذہانت کا عروج دراصل مشترکہ طور پر مہنگائی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف جہاں حکومت کی جانب سے تجارت اور ٹیرف کی پالیسیاں تبدیل ہو رہی ہیں، وہیں دوسری طرف ٹیکنالوجی کے شعبے میں جدید ترین ہارڈویئر کی ضرورت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔ ان دونوں عوامل کے مل جانے کی وجہ سے افراط زر کے دباؤ میں کمی نہیں آرہی اور وفاقی بینک کے لیے مانیٹری پالیسی کو کنٹرول کرنا مزید چیلنجنگ بن گیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے بعد کاروباریحلقوں اور سرمایہ کاروں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کے آلات کی قیمتوں میں اضافے کا یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے مہینوں میں صارفین کو اشیا اور خدمات کی خریداری کے لیے مزید بھاری قیمتیں چکانا پڑ سکتی ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے پالیسی ساز ان تمام امور کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ معیشت کو مزید شدید جھٹکوں سے بچایا جا سکے۔