LIVE
Loading Breaking News...

شمالی قبرص میں کشتی الٹنے کا حادثہ، 159 افراد کو بچا لیا گیا

News Image
شمالی قبرص کے قریب تقریباً 270 افراد کو لے جانے والی ایک کشتی حادثے کا شکار ہو گئی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق اب تک 159 مسافروں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ باقی افراد کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
شمالی قبرص کے ساحلی علاقوں کے قریب ایک بڑا سمندری حادثہ پیش آیا ہے جہاں تقریباً 270 مسافروں سے بھری ہوئی ایک کشتی الٹ گئی۔ اس دلخراش واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں نے فوری طور پر حرکت میں آتے ہوئے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن کا آغاز کر دیا۔ ذرائع کے مطابق کشتی میں سوار افراد کی صحیح تعداد اور ان کی منزل کے حوالے سے مزید تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں، لیکن ابتدائی اطلاعات میں مسافروں کی تعداد دو سو ستر کے قریب بتائی گئی ہے۔ مقامی میئر نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ریسکیو ٹیموں نے اب تک انتہائی پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 159 مسافروں کو بحفاظت بچا لیا ہے۔ سمندر میں طغیانی اور نامساعد حالات کے باوجود ریسکیو اہلکار ڈوبنے والے دیگر افراد کی تلاش کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جب تک تمام مسافروں کا سراغ نہیں مل جاتا، امدادی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ کسی بھی ممکنہ جانی نقصان کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس نوعیت کے حادثات خطے میں غیر قانونی سمندری سفر اور پناہ گزینوں کی نقل و حرکت کے خطرات کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر اس طرح کے سمندری حادثات پر گہری تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے جہاں انسانی اسمگلرز کے ذریعے لوگوں کو خطرناک راستوں پر سفر کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ شمالی قبرص کے اس حالیہ واقعے کے بعد بحیرہ روم اور گردونواح میں سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مزید سخت کرنے کے مطالبات بھی زور پکڑ رہے ہیں۔ فی الحال، بچائے جانے والے مسافروں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جہاں ان کی صحت کا معائنہ کیا جا رہا ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ہنگامی خدمات کے ادارے متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کے لیے ہیلپ لائنز قائم کرنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس سانحے نے ایک بار پھر سمندری سفر کی خطرناک صورتحال کو دنیا کے سامنے عیاں کر دیا ہے، اور ریسکیو اہلکار اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے باقی ماندہ مسافروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔