LIVE
Loading Breaking News...

موسمِ گرما میں پیدا ہونے والے بچوں کا اسکول داخلہ اور والدین کی لاعلمی

News Image
موسمی تغیرات اور پیدائش کے حوالے سے غلط معلومات کی وجہ سے متعدد والدین اس بات سے لاعلم ہیں کہ وہ اپنے موسمِ گرما میں پیدا ہونے والے بچوں کے اسکول داخلے کو مؤخر کر سکتے ہیں۔ اس مسئلے پر ماہرین تعلیم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معلوماتی مہم چلانے پر زور دیا ہے۔
تعلیمی ماہرین اور والدین کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ معلومات کی کمی اور غلط فہمیوں کی وجہ سے بہت سے خاندان اس بات سے قطعی ناواقف ہیں کہ وہ اپنے ان بچوں کے اسکول کے آغاز کو مؤخر کر سکتے ہیں جو موسمِ گرما کے مہینوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ برطانوی یا دیگر تعلیمی نظاموں کے تحت جہاں سال کی ایک مخصوص تاریخ پر داخلے کا انحصار ہوتا ہے، موسمِ گرما کے آخر میں پیدا ہونے والے بچوں کو قانونی طور پر یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ایک سال بعد باقاعدہ تعلیم کا آغاز کریں۔ تاہم، زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اکثر والدین کو اس بات کا علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کی عمر اور ذہنی پختگی کو مدنظر رکھتے ہوئے داخلے کو ملتوی کرنے کی درخواست دے سکتے ہیں۔ بہت سے اسکولوں اور مقامی کونسلوں کی جانب سے اس عمل کے بارے میں واضح ہدایات اور معلومات بروقت فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے یہ ابہام مزید بڑھ جاتا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی ابتدائی تعلیمی نشوونما پر پڑتا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ اسکول کے عملے اور مقامی تعلیمی حکام کی طرف سے اکثر اس حق کے بارے میں مکمل رہنمائی نہیں دی جاتی، جس کی وجہ سے وہ گھبراہٹ کا شکار ہو کر قبل از وقت ہی بچوں کو اسکول بھیجنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ماہرین تعلیم کا پرزور مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں ایک جامع آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے تاکہ ہر والدین کو اپنے بچوں کے اسکول داخلے سے متعلق درست اور بروقت معلومات مل سکیں اور وہ بغیر کسی دباؤ کے درست فیصلہ کر سکیں۔