LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیلی وزیر کا فلسطینی خواتین قیدیوں پر سخت حالات برقرار رکھنے پر اصرار

News Image
اسرائیلی وزیرِ قومی سلامتی نے فلسطینی خواتین قیدیوں کے ساتھ سخت حالات اور بدسلوکی کی تحسین کی ہے۔ فلسطینی تنظیموں نے جیل کی اس فوٹیج کو توین آمیز اور خوفزدہ کرنے والا قرار دے کر شدید مذمت کی ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیرِ قومی سلامتی اٹامار بن گویر نے ایک بار پھر اپنے متنازعہ بیانات اور اقدامات سے نئی بحث چھوٹی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں منظر عام پر آنے والی اس فوٹیج کی کھل کر تحسین کی ہے جس میں فلسطینی خواتین قیدیوں کو انتہائی سخت اور تذلیل آمیز حالات میں دکھایا گیا ہے۔ بن گویر کے اس بیان کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی اور مقامی تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس جیل کی فوٹیج کو صریحاً توہین آمیز، غیر انسانی اور قیدیوں کو خوفزدہ کرنے کی گھناؤنی سازش قرار دیا ہے۔ ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں بالخصوص خواتین کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ مبصرین کے مطابق، اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس قسم کے بیانات کی حوصلہ افزائی خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید ہوا دے رہی ہے۔ اس معاملے پر عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے جیلوں میں قیدیوں کے حالاتِ زندگی میں بہتری کے حوالے سے تاحال کوئی مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اس تازہ ترین واقعے نے ایک بار پھر اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے حقوق اور ان کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اور فلسطینی عوام میں شدید احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔