LIVE
Loading Breaking News...

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے چھ ماہ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال

News Image
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کو چھ ماہ گزر چکے ہیں جن کا محور بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کی جنگ بن گیا۔ تجزیاتی اداروں نے اس طویل کشیدگی کے معاشی اور عسکری نقصانات کا حساب لگانا شروع کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کو اب چھ ماہ کا طویل عرصہ گزر چکا ہے، اور اس دوران خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازع اب صرف دو ممالک کے درمیان عسکری محاذ آرائی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ براہ راست آبنائے ہرمز پر کنٹرول کی ایک بڑی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ عالمی توانائی کی سپلائی لائن کے طور پر جانی جانے والی اس اہم گزرگاہ پر تناؤ کے باعث بین الاقوامی منڈیوں اور خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ الجزیرہ ریسرچ لیبز (AJLabs) اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے اس جنگ کے وسیع پیمانے پر اخراجات اور اثرات کا تخمینہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ حملوں کے اس دورانیے میں نہ صرف مشرق وسطیٰ کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے بلکہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ بھی دیکھا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز کے قریب ہونے والی بحری نقل و حرکت پر پڑنے والے اثرات نے عالمی معیشت کو بھی ایک نئے بحران سے دوچار کر دیا ہے، جس سے دنیا کے کئی ممالک کی توانائی کی پالیسیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس طویل کشیدگی کے تاحال کوئی حتمی اور واضحاسٹریٹجک اہداف حاصل نہیں ہو سکے ہیں جن کی توقع شروع میں کی جا رہی تھی۔ فریقین کے درمیان جاری اس محاذ آرائی نے خطے کے اندرونی استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے اور سفارتی سطح پر حل تلاش کرنے کی کوششیں تاحال سست روی کا شکار ہیں۔ عالمی برادری اور طاقتیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس تنازع کو مزید پھیلنے سے روکا جائے تاکہ ایک بڑی معاشی و انسانی تباہی سے بچا جا سکے۔